اس شوخ سے کس طرح کہیں دل کی کوئی بات
اس شوخ سے کس طرح کہیں دل کی کوئی بات
کر دیتا ہے ہر ایک پر اظہار کہی بات
کس درجہ تنفر ہے انہیں بات سے میری
منہ پھیرتے ہیں میں نے اگر کی بھی کوئی بات
کیا کہتے ہو عشاق کو مرنا نہیں آتا
اچھا تمہیں دکھلاؤ رہی تم سے یہی بات
پینے کے لئے آیا تھا میخانے میں زاہد
کیا خوب ہمیں آج یہ ساقی نے کہی بات
گر وصل سے انکار ہے یوں ہی سہی لیکن
کیوں کرتے ہو تہذیب کے درجے سے گری بات
کہتے ہیں کہ وہ حسن سے مغلوب کریں گے
کچھ اڑتی ہوئی آج یہ ہم نے بھی سنی بات
ہے حضرت کاملؔ کی بہت اچھی یہ عادت
کہہ دیتے ہیں ہر ایک سے واللہ کھری بات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.