اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا
اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنا
مگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپنا
یہاں پر شان جاتی ہے وہاں پر جان جاتی ہے
زمیں چھوٹی تو لگتا ہے کہ چھوٹا آسماں اپنا
جو گزرا ہے سو گزرا ہے جو آئے گا سو آئے گا
جو اب ہے وہ بھلا کب ہے کوئی لمحہ کہاں اپنا
میں جس کے دل میں رہتا ہوں میں جس کی دھن میں رقصاں ہوں
وہ اپنی دھن پہ گاتا ہے تو ہوتا ہے گماں اپنا
وہاں خاموش بیٹھے تھے یہاں تو بات کرتے ہیں
وہاں کیوں تھا زیاں اپنا یہاں کیوں ہو زیاں اپنا
یہ صدیاں بیت جاتی ہیں مگر لمحے نہیں کٹتے
جو گھٹتا ہے تو بڑھ جاتا ہے کچھ بار گراں اپنا
- کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 526)
- مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.