Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والے

ظفر اقبال

اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والے

    جسے غبار سمجھتے تھے کارواں والے

    میں اپنی دھن میں یہاں آندھیاں اٹھاتا ہوں

    مگر کہاں وہ مزے خاک آشیاں والے

    مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا

    مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے

    مرے سراب تمنا پہ رشک تھا جن کو

    بنے ہیں آج وہی بحر بیکراں والے

    میں نالہ ہوں مجھے اپنے لبوں سے دور نہ رکھ

    مجھی سے زندہ ہے تو میرے جسم و جاں والے

    یہ مشت خاک ظفرؔ میرا پیرہن ہی تو ہے

    مجھے زمیں سے ڈرائیں نہ کہکشاں والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے