اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے

    بیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئے

    ساقی کی چشم مست کا عالم نہ پوچھیے

    اک اک نگاہ ہے کئی عالم لیے ہوئے

    شبنم نہیں گلوں پہ یہ قطرے ہیں اشک کے

    گزرا ہے کوئی دیدۂ پر نم لیے ہوئے

    طے کر رہا ہوں عشق کی دشوار منزلیں

    آہ دراز و گریۂ پیہم لیے ہوئے

    اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے

    کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

    سنتا ہوں ان کی بزم میں چھلکیں گے آج جام

    میں بھی چلا ہوں دیدۂ پر نم لیے ہوئے

    موتی کی قدر سب کو ہے پھولوں کو دیکھیے

    کیا ہنس رہے ہیں قطرۂ شبنم لیے ہوئے

    جوش جنوں میں لطف تصور نہ پوچھیے

    پھرتے ہیں ساتھ ساتھ انہیں ہم لیے ہوئے

    دل کی لگی نہ ان سے بجھی آج تک جلیلؔ

    دریا ہیں گرچہ دیدۂ پر نم لیے ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 269)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY