داغؔ دہلوی

  • 1831-1905
  • دہلی

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں Editor Choice Popular Choice

Roman

معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

previous

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں


باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں


پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی


نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری


نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں


صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے


تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا


کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں


جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو کیوں جیتے ہو


جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں


باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں


پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی


نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیری


نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں


صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے


تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا


کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں


جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو کیوں جیتے ہو


جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

فرانسس پرچٹ کی شرح

Close Source content commmentary source
next

اس غزل کے بارے میں رائے دیجیے

comments powered by Disqus
x