وحشت سی وحشت ہوتی ہے

عشرت آفریں

وحشت سی وحشت ہوتی ہے

عشرت آفریں

MORE BYعشرت آفریں

    وحشت سی وحشت ہوتی ہے

    زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے

    جل بجھنے والوں سے پوچھو

    غم کی کیا حدت ہوتی ہے

    رہن نہ رکھ دینا بینائی

    اس کی بھی مدت ہوتی ہے

    سارے قرض چکا دینے کی

    کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے

    دل اور جان کے سودے جو ہیں

    ان میں کب حجت ہوتی ہے

    خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں

    تھوڑی سی خفت ہوتی ہے

    اپنے آپ سے ملنے میں بھی

    اب کتنی دقت ہوتی ہے

    خود سے باتیں کرنے کی بھی

    اب کس کو فرصت ہوتی ہے

    کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں

    اپنے ہاں برکت ہوتی ہے

    سونا سی مٹی کے گھر میں

    کب ہم سے محنت ہوتی ہے

    دھان ہمارے چڑیا کھائیں

    چڑیوں کو عادت ہوت ہوتی ہے

    بچوں سے کیا شکوہ کرنا

    مٹی میں الفت ہوتی ہے

    سبز کواڑوں کی جھریوں میں

    جگنو یا حیرت ہوتی ہے

    ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں

    کیا اجلی رنگت ہوتی ہے

    پھٹی پرانی سی چنری میں

    کیا بھولی صورت ہوتی ہے

    چاول کی پیلی روٹی میں

    کیا سوندھی لذت ہوتی ہے

    رلی کے ایک اک ٹانکے میں

    پوروں کی چاہت ہوتی ہے

    جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں

    کب کوئی زحمت ہوتی ہے

    شام کو تیرا ہنس کر ملنا

    دن بھر کی اجرت ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY