وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم

عبد الحمید عدم

وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم

عبد الحمید عدم

MORE BY عبد الحمید عدم

    وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم

    نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم

    اللہ رے اس زلف کے جاں بخش اندھیرے

    جیسے کہ مہکتے ہوئے ظلمات کا عالم

    اے رعشۂ مستی کا سبب پوچھنے والے

    دیکھا ہے کبھی پہلی ملاقات کا عالم

    نکلے تھے مرے ساتھ وہ جب بزم ازل سے

    کچھ صبح کے آثار تھے کچھ رات کا عالم

    یوں اس کی جوانی کا کچھ اندازہ تھا جیسے

    مے خانے پہ امڈی ہوئی برسات کا عالم

    آنکھوں کے تصادم میں حکایات کی دنیا

    ہونٹوں کے تصادم میں خرابات کا عالم

    آواز میں کلیوں کے چٹکنے کی لطافت

    رفتار میں بہتے ہوئے نغمات کا عالم

    ہنستی ہوئی آنکھوں سے سوالات کی بارش

    جلتے ہوئے ہونٹوں میں جوابات کا عالم

    کچھ مجھ کو خبر تھی نہ انہیں ہوش تھا اپنا

    اللہ رے مدہوشی و جذبات کا عالم

    آنکھوں میں شفق جسم میں مے زلف میں ٹھنڈک

    عالم بھی وہ عالم کہ خرابات کا عالم

    انفاس سے آتی ہوئی اک نرم سی خوشبو

    سمٹا ہوا ہونٹوں میں مدارات کا عالم

    وہ چیز جسے زندگی کہتے ہیں وہ کیا ہے

    ہنستے ہوئے شفاف خیالات کا عالم

    بیٹھا ہوں عدمؔ لے کے بڑی دیر سے دل میں

    کہتے ہیں جسے حرف و حکایات کا عالم

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Adm (Pg. 380)
    • Author : Khwaja Mohammad Zakariya
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY