وہ کون ہیں پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے

خورشید اکبر

وہ کون ہیں پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے

خورشید اکبر

MORE BY خورشید اکبر

    وہ کون ہیں پھولوں کی حفاظت نہیں کرتے

    سنتے ہیں جو خوشبو سے محبت نہیں کرتے

    تم ہو کہ ابھی شہر میں مصروف بہت ہو

    ہم ہیں کہ ابھی ذکر شہادت نہیں کرتے

    قرآن کا مفہوم انہیں کون بتائے

    آنکھوں سے جو چہروں کی تلاوت نہیں کرتے

    ساحل سے سنا کرتے ہیں لہروں کی کہانی

    یہ ٹھہرے ہوئے لوگ بغاوت نہیں کرتے

    ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی

    اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے

    اس موسم جمہور میں وہ گل بھی کھلے ہیں

    جو صاحب عالم کی حمایت نہیں کرتے

    ہم بندۂ ناچیز گنہ گار ہیں لیکن

    وہ بھی تو ذرا بارش رحمت نہیں کرتے

    چہرے ہیں کہ سو رنگ میں ہوتے ہیں نمایاں

    آئینے مگر کوئی سیاست نہیں کرتے

    شبنم کو بھروسہ ہے بہت برگ اماں پر

    خورشیدؔ بھی دانستہ قیامت نہیں کرتے

    مآخذ:

    • کتاب : FALAK PAHLOO MEIN (Pg. 69)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY