وہ کوئے یار کو جاتے ہیں بے نیاز نہیں
وہ کوئے یار کو جاتے ہیں بے نیاز نہیں
ہیں سنگ دل ہی وہاں کوئی دل نواز نہیں
ہے مختصر سا ہی قصہ حیات کا لوگو
کسی کے حصہ کی تو عمر کچھ دراز نہیں
دکھائے راہ مگر کیسا آفتاب ہے وہ
ہو جس کو مشرق و مغرب میں امتیاز نہیں
بری نہیں ہے خود آرائی پر یہ ٹھیک نہیں
کہ سمجھو خود سا جہاں میں ہے سرفراز نہیں
یہ آبشار سے مغموم چشم سے جو گرے
کریں گے کیا کہو پتھر کا دل گداز نہیں
کریں گے سجدے جہاں پر دکھے ترا پیکر
ہے بت پرستی کو درکار جانماز نہیں
غروب و شرق ہیں تقدیر خور مگر مجھ کو
نشیب ہی نظر آتا ہے اب فراز نہیں
نکال نقص مگر اتنا یاد رکھ ناقدؔ
ہے نکتہ چینی سے مجھ کو بھی احتراز نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.