وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

اصغر گونڈوی

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

اصغر گونڈوی

MORE BY اصغر گونڈوی

    وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

    کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے

    نظر وہ ہے جو اس کون و مکاں سے پار ہو جائے

    مگر جب روئے تاباں پر پڑے بے کار ہو جائے

    تبسم کی ادا سے زندگی بیدار ہو جائے

    نظر سے چھیڑ دے رگ رگ مری ہشیار ہو جائے

    تجلی چہرۂ زیبا کی ہو کچھ جام رنگیں کی

    زمیں سے آسماں تک عالم انوار ہو جائے

    تم اس کافر کا ذوق بندگی اب پوچھتے کیا ہو

    جسے طاق حرم بھی ابروئے خم دار ہو جائے

    سحر لائے گی کیا پیغام بیداری شبستاں میں

    نقاب رخ الٹ دو خود سحر بیدار ہو جائے

    یہ اقرار خودی ہے دعوئ ایمان و دیں کیسا

    ترا اقرار جب ہے خود سے بھی انکار ہو جائے

    نظر اس حسن پر ٹھہرے تو آخر کس طرح ٹھہرے

    کبھی خود پھول بن جائے کبھی رخسار ہو جائے

    کچھ ایسا دیکھ کر چپ ہوں بہار عالم امکاں

    کوئی اک جام پی کر جس طرح سرشار ہو جائے

    چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

    اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY