وہ پری رو اس قدر شعلہ فشاں ہے بزم میں (ردیف .. ا)
وہ پری رو اس قدر شعلہ فشاں ہے بزم میں
دل نہیں خود آتش طاق فروزاں جل گیا
ہائے ہم جلتے رہے یوں مدتوں تیرے جلو
تو بوجہ جنبش بیتاب تاباں جل گیا
جانتا ہوں ہے مقدر فرقت و غم ہر گھڑی
تیری بزم ناز میں پھر شمع گریاں جل گیا
جل رہے ہیں روز و شب شام و سحر صدیاں ہوئیں
دیکھتے ہی دیکھتے سب نقش جاناں جل گیا
کوئی جلتا ہے تماشا بن کے اس کی بزم میں
میں غریب شہر تھا پنہاں کا پنہاں جل گیا
کیا ہے قید با مشقت کیا رہائی کیا سزا
یہ وجود بے زباں تھا پا بجولاں جل گیا
ہے سکوت دل گرفتہ ہر طرف چھایا ہوا
جب سے ناز میر جاناں شوق رقصاں جل گیا
جب یہ پوچھا سادہ لوحوں پر ہے کیوں ظلم و ستم
مسکرایا وہ ستم گر دل کا ساماں جل گیا
عشق کی دنیا ہے خاموشی سے جلنا دم بہ دم
وہ سراپا شور و غوغا دیکھ سوزاں جل گیا
ہائے یہ جلنا ہی کیا قسمت مری چاروں پہر
میں دم بیم و رجا مغلوب ہجراں جل گیا
ہیں ترے دامن میں پنہاں سیکڑوں خوابوں کے قتل
اور اک مظلوم وہ تھا گل بہ داماں جل گیا
ہائے اب آہنؔ کی دنیا پھر اجڑ کر رہ گئی
پھر یہ شادابی جہاں کی دیکھ جاناں جل گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.