وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں
وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں
وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں
سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے
کہاں ہے نیند ہماری وہ بس یہی پوچھیں
بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے
سنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں
پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی
کہاں ہے بس میں ہمارے کہ ہم اسے روکیں
حقیقتوں کا بدلنا تو خواب ہے فکریؔ
مگر یہ خواب ہے ایسا کہ سب جسے دیکھیں
- کتاب : Aiwan (Pg. 36)
- Author : Manazir Ashiq Harganvi & Shahid Nayeem
- مطبع : Nirali Duniya (1998)
- اشاعت : 1998
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.