یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

فانی بدایونی

یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

فانی بدایونی

MORE BYفانی بدایونی

    یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

    اس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتا

    کہتے ہو کہ ہم وعدۂ پرسش نہیں کرتے

    یہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیں جاتا

    دشوارئ انکار سے طالب نہیں ڈرتے

    یوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیں جاتا

    آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت

    احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

    جاتے ہوئے کھاتے ہو مری جان کی قسمیں

    اب جان سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتا

    غم کیا ہے اگر منزل جاناں ہے بہت دور

    کیا خاک رہ یار ہوا بھی نہیں جاتا

    دیکھا نہ گیا اس سے تڑپتے ہوئے دل کو

    ظالم سے جفاکار ہوا بھی نہیں جاتا

    یہ طرفہ ستم ہے کہ ستم بھی ہے کرم بھی

    اب خوگر آزار ہوا بھی نہیں جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY