یہ حادثہ بھی شہر نگاراں میں ہو گیا

حفیظ بنارسی

یہ حادثہ بھی شہر نگاراں میں ہو گیا

حفیظ بنارسی

MORE BY حفیظ بنارسی

    یہ حادثہ بھی شہر نگاراں میں ہو گیا

    بے چہرگی کی بھیڑ میں ہر چہرہ کھو گیا

    جس کو سزا ملی تھی کہ جاگے تمام عمر

    سنتا ہوں آج موت کی بانہوں میں سو گیا

    حرکت کسی میں ہے نہ حرارت کسی میں ہے

    کیا شہر تھا جو برف کی چٹان ہو گیا

    میں اس کو نفرتوں کے سوا کچھ نہ دے سکا

    وہ چاہتوں کا بیج مرے دل میں بو گیا

    مرہم تو رکھ سکا نہ کوئی میرے زخم پر

    جو آیا ایک نشتر تازہ چبھو گیا

    یا کیجئے قبول کہ ہر چہرہ زرد ہے

    یا کہئے ہر نگاہ کو یرقان ہو گیا

    میں نے تو اپنے غم کی کہانی سنائی تھی

    کیوں اپنے اپنے غم میں ہر اک شخص کھو گیا

    اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

    میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

    اک ماہ وش نے چوم لی پیشانی حفیظؔ

    دلچسپ حادثہ تھا جو کل رات ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY