یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

سلیم کوثر

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

    وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں

    ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا

    سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں

    اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی

    ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

    یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں

    اب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں

    گل امید فروزاں رہے تری خوشبو

    کہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں

    اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدری

    اب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں

    جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاں

    ہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں

    وہ ہم ہیں جو تری آواز سن کے تیرے ہوئے

    وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY