یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے
یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے
بلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہے
محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے
نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے
ذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے
جو غم تم نے دیا اس پر تصدق سیکڑوں خوشیاں
جو دکھ تم سے ملے ان کے مقابل میں طرب کیا ہے
سمجھتے تھے بڑا سچا مسلماں تم کو سب مضطرؔ
مگر تم تو بتوں کو پوجتے ہو یہ غضب کیا ہے
- کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 114)
- Author : Muztar Khairabadi
- مطبع : Javed Akhtar (2015)
- اشاعت : 2015
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.