Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ اونچ نیچ کی فطرت مجھے مٹانی ہے

عثمان مینائی

یہ اونچ نیچ کی فطرت مجھے مٹانی ہے

عثمان مینائی

MORE BYعثمان مینائی

    یہ اونچ نیچ کی فطرت مجھے مٹانی ہے

    اب آسماں کے برابر زمین لانی ہے

    ہمارے پاس قناعت کی لکڑیاں لاؤ

    کہ خواہشات کی ہم کو چتا جلانی ہے

    کوئی بشر کبھی پانی بنا نہیں سکتا

    خدا کے ہونے کا پہلا ثبوت پانی ہے

    شجر کی شاخ کو پت جھڑ میں بھی نہیں چھوڑا

    یہ لگ رہا ہے پرندہ وہ خاندانی ہے

    ابھی سے لکھنے لگے ہو اگر مگر لیکن

    تمہارے دید کے وعدے میں آنا کانی ہے

    نہ ہو سکا کسی دربار میں کبھی مقبول

    مری زبان پہ الزام حق بیانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے