یہ اونچ نیچ کی فطرت مجھے مٹانی ہے
یہ اونچ نیچ کی فطرت مجھے مٹانی ہے
اب آسماں کے برابر زمین لانی ہے
ہمارے پاس قناعت کی لکڑیاں لاؤ
کہ خواہشات کی ہم کو چتا جلانی ہے
کوئی بشر کبھی پانی بنا نہیں سکتا
خدا کے ہونے کا پہلا ثبوت پانی ہے
شجر کی شاخ کو پت جھڑ میں بھی نہیں چھوڑا
یہ لگ رہا ہے پرندہ وہ خاندانی ہے
ابھی سے لکھنے لگے ہو اگر مگر لیکن
تمہارے دید کے وعدے میں آنا کانی ہے
نہ ہو سکا کسی دربار میں کبھی مقبول
مری زبان پہ الزام حق بیانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.