یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

MORE BY لالہ مادھو رام جوہر

    یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

    کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں

    خدا سمجھے یہ کیا صیاد و گلچیں ظلم کرتے ہیں

    گلوں کو توڑتے ہیں بلبلوں کے پر کترتے ہیں

    دیا دم نزع میں گو آپ نے پر روح چل نکلی

    کسی کے روکنے سے جانے والے کب ٹھہرتے ہیں

    ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو

    مسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں

    نہ آ جایا کرو اغیار کی الفت جتانے میں

    وہ تم پر کیوں بھلا مرنے لگے فاقوں سے مرتے ہیں

    ہر اک موسم میں کشت آرزو سرسبز رہتی ہے

    تردد غیر کو ہوگا یہاں تو چین کرتے ہیں

    یہ جوڑا کھولنا بھی ہیچ سے خالی نہیں ان کا

    الجھ جاتا ہے دل جب بال شانوں پر بکھرتے ہیں

    سمجھ لینا تمہارا اے رقیبو کچھ نہیں مشکل

    خدا جانے یہ کس کا خوف ہے ہم کس سے ڈرتے ہیں

    تکلف کے یہ معنی ہیں سمجھ لو بے کہے دل کی

    مزا کیا جب ہمیں نے یہ کہا تم سے کہ مرتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhab Kalam Lala M.R Jauhar (Pg. 41)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY