Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زخم دیتے جائیں لیکن فکر مرہم بھی کریں

شکیل ابن شرف

زخم دیتے جائیں لیکن فکر مرہم بھی کریں

شکیل ابن شرف

MORE BYشکیل ابن شرف

    زخم دیتے جائیں لیکن فکر مرہم بھی کریں

    درد جب حد سے سوا ہو جائے تو کم بھی کریں

    ہم سے الجھو گے تو پچھتانا پڑے گا ایک دن

    درگزر جذبات کو تم بھی کرو ہم بھی کریں

    کاٹتے ہیں رات دن چکر ترے کوچہ کا ہم

    تجھ سے فرصت پائیں تو پھر سیر عالم بھی کریں

    ہجر کی شب میں ترے خط کو پڑھا کرتے ہیں ہم

    نیند آئے تو دیے کی لو کو مدھم بھی کریں

    اپنے در پر ہم کو بلوایا غنیمت ہے یہی

    یہ ضروری تو نہیں وہ خیر مقدم بھی کریں

    موت کی تکلیف سے بد تر ہے رنج انتظار

    پاسداری وقت کی تم بھی کرو ہم بھی کریں

    عاشقان زلف جاناں کے عجب اطوار ہیں

    خود گرفتار بلا ہوں خواہش رم بھی کریں

    اپنا مٹی کا پیالہ ہم کو پیارا ہے بہت

    ہم نہ دیں گے پیش اگر وہ ساغر جم بھی کریں

    اس کی اپنی سوچ ہے یہ اس کا اپنا ظرف ہے

    بے وقوفی کر رہا ہے وہ تو کیا ہم بھی کریں

    جاؤ ہم کو ایسی سرداری نہیں کرنی شکیلؔ

    تعزیہ بھی ہم بنائیں اور ماتم بھی کریں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے