زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

محمد علوی

زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

محمد علوی

MORE BY محمد علوی

    زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

    کسے دکھاتے بڑا ہول ناک منظر تھا

    لڑھک کے میری طرف آ رہا تھا اک پتھر

    پھر ایک اور پھر اک اور بڑا سا پتھر تھا

    فصیلیں دل کی گراتا ہوا جو در آیا

    وہ کوئی اور نہ تھا خواہشوں کا لشکر تھا

    بلا رہا تھا کوئی چیخ چیخ کر مجھ کو

    کنویں میں جھانک کے دیکھا تو میں ہی اندر تھا

    بہت سے ہاتھ اگ آئے تھے میری آنکھوں میں

    ہر ایک ہاتھ میں اک نوک دار خنجر تھا

    وہ جنگلوں میں درختوں پہ کودتے پھرنا

    برا بہت تھا مگر آج سے تو بہتر تھا

    ہمارے واسطے علویؔ کے شعر کیا کم ہیں

    چلو قبول کہ غالبؔ بڑا سخن ور تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY