زمینی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا جال کا رنگ
زمینی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا جال کا رنگ
سمجھ سکے نہ پرندے شکاری چال کا رنگ
تمہارے چہرے پہ کیوں آج ہے کمال کا رنگ
کسی کے پیار کا جادو ہے یا گلال کا رنگ
کسی بھی ایک ہی رنگ میں نظر نہیں آتے
الگ الگ ہوا کرتا ہے ماہ و سال کا رنگ
کھلائیں خون پسینے کی روٹیاں ہم نے
ہمارے بچوں کے چہرے پہ ہے حلال کا رنگ
جو سچے ہوتے ہیں پرہیزگار ہوتے ہیں
انہیں کی آنکھ میں دیکھا گیا جلال کا رنگ
لگا کے پاؤں میں مہندی وہ جب سے اترے ہیں
گلابی ہو گیا اس دن سے میرے تال کا رنگ
تمہارے چرچے سنے تھے بہت محبت کے
یہ خونی ہو گیا کیسے ترے خیال کا رنگ
کسی کی حسن نظر کا یہ فیض ہے مجھ پر
ہنرؔ کے چہرے سے روشن ہوا جمال کا رنگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.