ذرا سی دھوپ ذرا سی نمی کے آنے سے

عالم خورشید

ذرا سی دھوپ ذرا سی نمی کے آنے سے

عالم خورشید

MORE BY عالم خورشید

    ذرا سی دھوپ ذرا سی نمی کے آنے سے

    میں جی اٹھا ہوں ذرا تازگی کے آنے سے

    اداس ہو گئے اک پل میں شادماں چہرے

    مرے لبوں پہ ذرا سی ہنسی کے آنے سے

    دکھوں کے یار بچھڑنے لگے ہیں اب مجھ سے

    یہ سانحہ بھی ہوا ہے خوشی کے آنے سے

    کرخت ہونے لگے ہیں بجھے ہوئے لہجے

    مرے مزاج میں شائستگی کے آنے سے

    بہت سکون سے رہتے تھے ہم اندھیرے میں

    فساد پیدا ہوا روشنی کے آنے سے

    یقین ہوتا نہیں شہر دل اچانک یوں

    بدل گیا ہے کسی اجنبی کے آنے سے

    میں روتے روتے اچانک ہی ہنس پڑا عالمؔ

    تماش بینوں میں سنجیدگی کے آنے سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مآخذ:

    • کتاب : Istifsaar (Pg. 36)
    • Author : Sheen Kaaf Nizam, Aadil Raza Mansoori
    • مطبع : Aadil Raza Mansoori (Issue No. 1, Oct To Dec. 2013)
    • اشاعت : Issue No. 1, Oct To Dec. 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY