ذرا سوچا تو کیا کیا ذہن سے منظر نکل آئے

پروندر شوخ

ذرا سوچا تو کیا کیا ذہن سے منظر نکل آئے

پروندر شوخ

MORE BYپروندر شوخ

    ذرا سوچا تو کیا کیا ذہن سے منظر نکل آئے

    مرے احساس کے کچھ کھنڈروں سے گھر نکل آئے

    لگیں دینے سبق وہ پھر پرندوں کو اڑانوں کا

    ذرا سے شہر میں جب چینٹیوں کے پر نکل آئے

    یہ عالم ہے کہ جب بھی گھر میں کچھ ڈھونڈنے بیٹھا

    پرانے کاغذوں سے یاد کے منظر نکل آئے

    لگا جب یوں کہ اکتانے لگا ہے دل اجالوں سے

    اسے محفل سے اس کی الوداع کہہ کر نکل آئے

    دکھائی دے کبھی یہ معجزہ بھی مجھ کو الفت میں

    کسی شب چاند بن کر وہ مری چھت پر نکل آئے

    ملے ہیں زخم جب سے شوخؔ وہ گلشن سے برتا ہے

    بھروسہ کچھ نہیں کس پھول سے پتھر نکل آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY