سحر البیان

میر حسن

سحر البیان

میر حسن

MORE BY میر حسن

    کروں پہلے توحید یزداں رقم

    جھکا جس کے سجدے کو اول قلم

    سر لوح پر رکھ بیاض جبیں

    کہا: دوسرا کوئی تجھ سا نہیں

    قلم پھر شہادت کی انگلی اٹھا

    ہوا حرف زن یوں کہ: رب العلا!

    نہیں کوئی تیرا، نہ ہوگا شریک

    تری ذات ہے وحدہٗ لا شریک

    پرستش کے قابل ہے تواے کریم!

    کہ ہے ذات تیری غفور رحیم

    رہ حمد میں تیری عزّ و جل!

    تجھے سجدہ کرتا چلوں سر کے بل

    وہ، الحق کہ ایسا ہی معبود ہے

    قلم جو لکھے، اس سے افزود ہے

    سبھوں کا وہی دین و ایمان ہے

    یے دل ہیں تمام اور وہی جان ہے

    تر و تازہ ہے اس سے گلزار خلق

    وہ ابر کرم، ہے ہوا دار خلق

    اگرچہ وہ بے فکر و غیّور ہے

    ولے پرورش سب کی منظور ہے

    کسی سے بر آوے نہ کچھ کام جاں

    جو وہ مہرباں ہو، تو گل مہرباں

    اگرچہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں

    پر، اس بن تو کوئی کسی کا نہیں

    موئے پر نہیں اس سے رفت و گزشت

    اسی کی طرف سب کی ہے بازگشت

    رہا کون اور کس کی بابت رہی

    موئے اور جیتے وہی ہے وہی

    نہاں سب میں، اور سب میں ہے آشکار

    یہ سب اس کے عالم ہیں ہژدہ ہزار

    ڈرے سب ہیں اس سے، وہی سب سے پیش

    ہمیشہ سے ہے اور رہے گا ہمیش

    چمن میں، ہے وحدت کے، یکتا وہ گل

    کہ مشتاق ہیں اس کے سب جز و کُل

    اسی سے ہے کعبہ، اسی سے کنشت

    اسی کا ہے دوزخ، اسی کا بہشت

    جسے چاہے جنت میں دیوے مقام

    جسے چاہے دوزخ میں رکھے مدام

    وہ ہے مالکُ الملک دنیا و دیں

    ہے قبضے میں اس کے زمان و زمیں

    سدا بے نمودوں کی اس سے نمود

    دل بستگاں کی ہے اس سے کشود

    اسی کی نظر سے ہے ہم سب کی دید

    اسی کے سخن پر ہے سب کی شنید

    وہی نور، ہے سب طرف جلوہ گر

    اسی کے یہ ذرے ہیں شمس و قمر

    نہیں اس سے خالی غرض کوئی شے

    وہ کچھ شے نہیں، پر ہر اک شے میں ہے

    نہ گوہر میں ہے وہ، نہ ہے سنگ میں

    و لیکن چمکتا ہے ہر اک رنگ میں

    وہ ظاہر میں ہر چند ظاہر نہیں

    پہ، ظاہر کوئی، اس سے باہر نہیں

    تامل سے کیجے اگر غور کچھ

    تو سب کچھ وہی ہے، نہیں اور کچھ

    اسی گل کی بو سے ہے خوش بو گلاب

    پھرے ہے لیے ساتھ دریا، حباب

    پر، اس جوش میں آ کے، بہنا نہیں

    سمجھنے کی ہے بات، کہنا نہیں

    قلم، گو زباں لاوے اپنی ہزار

    لکھے کس طرح حمد پروردگار

    کہ عاجز ہے یاں انبیا کی زباں

    زبان قلم کو یہ قدرت کہاں!

    اس عہدے سے کوئی بھی نکلا کہیں!

    سوا عجز، درپیش یاں کچھ نہیں

    وہ معبود یکتا، خدائے جہاں

    کہ جس نے کیا ’’کن‘‘ میں کون و مکاں

    دیا عقل و ادراک اس نے ہمیں

    کیا خاک سے پاک اس نے ہمیں

    پیمبر کو بھیجا ہمارے لیے

    وصی اور امام اس نے پیدا کیے

    جہاں کو انھوں نے دیا انتظام

    برائی بھلائی سجھائی تمام

    دکھائی انھوں نے ہمیں راہ راست

    کہ تا، ہو نہ، اس راہ کی باز خواست

    سو وہ کون سی راہ؟ شرع نبی

    کہ رستے کو جنت کے سیدھی گئی

    نعت حضرت رسالت پناہ کی

    نبی کون، یعنی رسول کریم

    نبوت کے دریا کا در یتیم

    ہوا گو کہ ظاہر میں امی لقب

    پہ، علم لدنی کھلا دل پہ سب

    بغیر از لکھے، اور کیے بے رقم

    چلے حکم پر اس کے لوح و قلم

    ہوا علم دیں اس کا جو آشکار

    گزشتہ ہوئے حکم، تقویم پار

    اٹھا کفر اسلام ظاہر کیا

    بتوں کو خدائی سے باہر کیا

    کیا حق نے نبیوں کا سردار اسے

    بنایا نبوت کا حق دار اسے

    نبوت جو کی اس پہ حق نے تمام

    لکھا: اشرفُ الناس، خیرُ الانام

    بنایا سمجھ بوجھ کر خوب اسے

    خدا نے کیا اپنا محبوب اسے

    کروں اس کے رتبے کا کیا میں بیاں

    کھڑے ہوں جہاں باندھ صف مرسلاں

    مسیح اس کی خر گاہ کا پارہ دوز

    تجلیٔ طور اس کی مشعل فروز

    خلیل اس کے گلزار کا باغباں

    سلیماں سے کئی مہر دار اس کے یاں

    خضر اس کی سرکار کا آبدار

    زرہ ساز داؤد سے دس ہزار

    محمد کی مانند جگ میں نہیں

    ہوا ہے نہ ایسا، نہ ہو گا کہیں

    یہ تھی رمز، جو اس کے سایہ نہ تھا

    کہ رنگ دوئی واں تک آیا نہ تھا

    نہ ہونے کا سایے کا تھا یہ سبب

    ہوا صَرف پوشش میں کعبے کی سب

    وہ قد اس لیے تھا نہ سایہ فگن

    کہ تھا گل وہ اک معجزے کا بدن

    بنا سایہ اس کا لطیف اس قدر

    نہ آیا لطافت کے باعث نظر

    عجب کیا جو اس گل کا سایہ نہ ہو

    کہ تھا وہ، گل قدرت حق کی بو

    خوش آیا نہ، سایے کو، ہونا جدا

    اسی نور حق کے رہا زیر پا

    نہ ڈالی کسی شخص پر اپنی چھانو

    کسی کا نہ منہ دیکھا، دیکھ اس کے پانو

    وہ ہوتا زمیں گیر کیا فرش پر

    قدم اس کے سایے کا تھا عرش پر

    نہ ہونے کی سایے کے اک وجہ اور

    مجھے خوب سوجھی، پہ ہے شرط غور

    جہاں تک کہ تھے یاں کے اہل نظر

    سمجھ مایۂ نور، کحلُ البصر

    سبھوں نے لیا پتلیوں پر اٹھا

    زمیں پر نہ سایے کو گرنے دیا

    سیاہی کا پتلی کی ہے یہ سبب

    وہی سایہ پھرتا ہے آنکھوں میں اب

    وگرنہ یہ تھی چشم اپنی کہاں

    اسی سے یہ روشن ہے سارا جہاں

    نظر سے جو غائب وہ سایا رہا

    ملائک کے دل میں سمایا رہا

    نہیں ہمسر اس کا کوئی، جو علی

    کہ بھائی کا بھائی، وصی کا وصی

    ہوئی جو نبوت نبی پر تمام

    ہوئی نعمت اس کے وصی پر تمام

    جہاں فیض سے ان کے ہے کام یاب

    نبی آفتاب و علی ماہتاب

    منقبت حضرت امیرالمومنین کی

    علی دین و دنیا کا سردار ہے

    کہ مختار کے گھر کا مختار ہے

    دیار امامت کے گلشن کا گل

    بہار ولایت کا باغ سبل

    علی راز دار خدا و نبی

    خبردار سر خفی و جلی

    علی بندۂ خاص درگاہ حق

    علی سالک و رہبر راہ حق

    علیّ ولی، ابن عمّ رسول

    لقب شاہ مردان و زوج بتول

    کہے یوں جو چاہے کوئی بیر سے

    پہ نسبت علی کو نہیں غیر سے

    خدا نفس پیغبرش خداندہ است

    دگر افضلیت بہ کس ماندہ است؟

    یہاں بات کی بھی سمائی نہیں

    نبی و علی میں جدائی نہیں

    نبی و علی، ہر دو نسبت بہم

    دُو تا و یکے، چوں زبان قلم

    علی کا عدوٗ: دوزخی، دوزخی

    علی کا محب: جنتی، جنتی

    نبی اور علی، فاطمہ اور حسن

    حسین ابن حیدر، یہ ہیں پنج تن

    ہوئی ان پہ دو جگ کی خوبی تمام

    انہوں پر درود اور انہوں پر سلام

    علی سے لگا تا بہ مہدیٔ دیں

    یہ ہیں ایک نور خدائے بریں

    اُنہوں سے ہے قائم امامت کا گھر

    کہ بارہ ستوں ہیں یہ اثنا عشر

    صغیرہ، کبیرہ سے یہ پاک ہیں

    حساب عمل سے یہ بے باک ہیں

    ہوا یاں سے ظاہر کمال رسول

    کہ بہتر ہوئی سب سے آل رسول

    سلام ان پہ جو ان کے اصحاب ہیں

    وہ اصحاب کیسے، کہ احباب ہیں

    خدا نے انہوں کو کہا مومنیں

    وہ ہیں زینت آسمان و زمیں

    خدا ان سے راضی، رسول ان سے خوش

    علی ان سے راضی، بتول ان سے خوش

    ہوئی فرض ان کی ہمیں دوستی

    کہ ہیں دل سے وہ جاں نثار نبی

    مناجات

    الٰہی! بہ حق رسول امیں

    بہ حق علی و بہ اصحاب دیں

    بہ حق بتول و بہ آل رسول

    کروں عرض جو میں، سو ہوئے قبول

    الٰہی! میں بندہ گنہگار ہوں

    گناہوں میں اپنے گراں بار ہوں

    مجھے بخشیو میرے پروردگار!

    کہ ہے تو کریم اور آمرزگار

    مری عرض یہ ہے کہ جب تک جیوں

    شراب محبت کو تیری پیوں

    سوا تیری الفت کے، اور سب ہے ہیچ

    یہی ہو، نہ ہو اور کچھ ایچ پیچ

    جو غم ہو، تو ہو آل احمد کا غم

    سوا اس الم کے نہ ہو کچھ الم

    رہے سب طرف سے مرے دل کو چین

    بہ حق حسن اور بہ حق حسین

    کسی سے نہ کرنی پڑے التجا

    تو کر خود بہ خود میری حاجت روا

    صحیح اور سالم سدا مجھ کو رکھ

    خوشی سے ہمیشہ خدا! مجھ کو رکھ

    مری آل اولاد کو شاد رکھ

    مرے دوستوں کو تو آباد رکھ

    میں کھاتا ہوں جس کا نمک اے کریم!

    سدا رحم کر اس پہ تو اے رحیم!

    جیوں آبرو اور حرمت کے ساتھ

    رہوں میں عزیزوں میں عزت کے ساتھ

    بر آویں مرے دین و دنیا کے کام

    بہ حق محمد علیہ السلام

    تعیریف سخن کی

    پلا مجھ کو ساقی! شراب سخن

    کہ مفتوح ہو جس سے باب سخن

    سخن کی مجھے فکر دن رات ہے

    سخن ہی تو ہے، اور کیا بات ہے

    سخن کے طلب گار ہیں عقل مند

    سخن سے ہے نام نکو یاں بلند

    سخن کی کریں قدر مردان کار

    سخن، نام ان کا رکھے برقرار

    سخن سے وہی شخص رکھتے ہیں کام

    جنہیں چاہیے ساتھ نیکی کے نام

    سخن سے سلف کی بھلائی رہی

    زبان قلم سے بڑائی رہی

    کہاں رستم و گیو و افراسیاب

    سخن سے رہی یاد یہ نقل خواب

    سخن کا صلہ یار دیتے رہے

    جواہر سدا مول لیتے رہے

    سخن کا سدا گرم بازار ہے

    سخن سنج اس کا خریدار ہے

    رہے جب تلک داستان سخن

    الٰہی! رہے قدردان سخن

    مدح شاہ عالم بادشاہ کی

    خدیو فلک شاہ عالی گہر

    زمیں بوس ہوں جس کے شمس و قمر

    جہاں اس کے پرتو سے ہے کام یاب

    وہ ہے برج اقلیم میں آفتاب

    اسی مہر سے ہے منور یہ ماہ

    جہاں ہووے اور ہو جہاں دار شاہ

    وہ مہر منور، یہ ماہ منیر

    اور اس کا یہ نجم سعادت وزیر

    مدح وزیر آصف الدولہ کی

    فلک رتبہ نوّاب عالی جناب

    کہ ہے آصف الدولہ جس کا خطاب

    وزیر جہاں، حاکم عدل و داد

    ہے آبادیٔ ملک جس کی مراد

    جہاں، عدل سے اس کے آباد ہے

    غریبوں، فقیروں کا دل شاد ہے

    پھرے بھاگتا مور سے فیل مست

    زبردست ظالم، پہ ہے زیردست

    کتاں پر کرے مہ اگر بد نظر

    تو آدھا ادھر ہووے آدھا ادھر

    کسی کا اگر مفت لے زلف دل

    تو کھایا کرے پیچ وہ متصل

    وہ انصاف سے جو گزرتا نہیں

    کسی پر کوئی شخص مرتا نہیں

    تو ہو باگ، بکری میں کچھ گفتگو

    اگر اس کا چیتا نہ ہووے کبھو

    گر آواز سن صید کی، کچھ کہے

    تو باز آئے چپّک کہ بہری رہے

    پھرے شمع کے گرد گر آ کے چور

    صبا کھینچ لے جاوے اس کو بہ زور

    نہ لے جب تلک شمع پروانگی

    پتنگے کے پر کو نہ چھیڑے کبھی

    اگر آپ سے اس پہ وہ آ گرے

    تو فانوس میں شمع چھپتی پھرے

    گر احیاناً اس کے جلیں بال و پر

    تو گل گیر، لے شمع کا کاٹ سر

    اسے عدل کی جو طرح یاد ہے

    کسے یاد ہے؟ یہ خدا داد ہے

    ستم اس کے ہاتھو سے رویا کرے

    سدا فتنۂ دہر سویا کرے

    گھروں میں فراغت سے سوتے ہیں سب

    پڑے گھر میں چور اپنے روتے ہیں سب

    وہ ہے باعث امن خرد و کلاں

    کہ ہے نام سے اس کے مشق اماں

    بیان سخاوت کروں گر رقم

    تو در ریز کاغذ پہ ہووے قلم

    نظر سے توجہ کی دیکھا جدھر

    دیا مثل نرگس اسے سیم و زر

    سخاوت یہ ادنیٰ سی ایک اس کی ہے

    کہ اک دں دو شالے دیے سات سے

    سوا اس کے، ہے اور یہ داستاں

    کہ ہو جس پہ قربان حاتم کی جاں

    ہوئی کم جو اک بار کچھ برشگال

    گرانی سی ہونے لگی ایک سال

    غریبوں کا دم سا نکلنے لگا

    توکل کا بھی پانو چلنے لگا

    وزیرالممالک نے تدبیر کر

    خدا کی دیا راہ پر مال و زر

    محلے محلے کیا حکم یہ

    کہ باڑے کی اس غم کے کھولیں گرہ

    یہ چاہا کہ خلقت کسی ڈھب جیے

    ٹکے لاکھ لاکھ ایک دن میں دیے

    یہ لغزش پڑی ملک میں جو تمام

    لیا ہاتھ نے اس کے گرتوں کو تھام

    یہ بندہ نوازی، یہ جاں پروری

    یہ آئین سرداری و سروری

    ہوئے ذات پر اس سخی کی تمام

    تکلف ہے آگے سخاوت کا نام

    فقیروں کی بھی یاں تلک تو بنی

    کہ اک اک یہاں ہو گیا ہے غنی

    یہ کیا دخل آواز دے جو گدا

    چٹکنے کی گل کے نہ ہووے صدا

    قدح لے کے نرگس جو ہووے کھڑی

    تو خجلت سے جاوے زمیں میں گڑی

    نہ ہو اس کا شامل جو ابر کرم

    اثر ابر نیساں سے ہووے عدم

    ہر اک کام اس کا: جہاں کی مراد

    فلاطوں طبیعت، ارسطو نژاد

    جب ایسا وہ پیدا ہوا ہے بشر

    تب اس کو دیا ہے یہ کچھ مال و زر

    لکھوں گر شجاعت کا اس کی بیاں

    قلم ہو مرا رستم داستاں

    غضب سے وہ ہاتھ اپنا جس پر اٹھائے

    اجل کا طمانچہ قسم اس کی کھائے

    کرے جس جگہ زور اس کا نمود

    دل آہن کا اس جا پہ ہووے گبود

    چلے تیغ گر اس کی زور مصاف

    نظر آوے دشمن کا میدان صاف

    اگر بے حیائی سے کوئی عدو

    ملا دیوے اس تیغ سے منہ کبھو

    تو ایسے ہی کھا کر گرے سر کے بل

    کہ سر پر کھڑی اس کے رووے اجل

    نہ ہو کیونکے وہ تیغ برق غضب

    کہ برش کی تشدید، جوہر ہیں سب

    لگاوے اگر کوہ پر ایک بار

    گزر جائے یوں، جیسے صابن میں تار

    ہوئی ہم قسم اس سے تیغ اجل

    نکل آئے یہ، گر پڑے وہ اگل

    غضب سے، غضب، اس کے کانپا کرے

    تہور بھی ہیبت سے اس کی ڈرے

    اور اس زور پر ہے یہ علم و حیا

    کہ ہے خلق کا جیسے دریا بہا

    جہاں تک کہ ہیں علم و نسب و کمال

    ہر اک فن میں ماہر ہے وہ خوش خصال

    سخن داں، سخن سنج، شیریں زباں

    وزیر جہان و وحید زماں

    سخن کی نہیں اس سے پوشیدہ بات

    غوامض ہیں سب سہل اس کے نکات

    سلیقہ ہر اک فن میں، ہر بات میں

    نکلتی نئی بات دن رات میں

    سدا سیر پر اور تماشے پہ دل

    کشادہ دلی اور خوشی متصل

    نہ ہو اس کو کیوں کر ہواے شکار

    تہور شعاروں کا ہے یہ شعار

    دلیروں کے تئیں، ہے دلیروں سے کام

    کہ رہتا ہے شیروں کو شیروں سے کام

    شہاں را ضروراست مشق شکار

    کہ آید پئے صید دل ہا بہ کار

    کھلے، بند جتنے ہیں صحرا میں صید

    ہیں نواب کے دام الفت میں قید

    زمہرش دل آہواں سوختہ

    بہ فتراک او چشمہا دوختہ

    شجاعت کا، ہمت کا یہ، کام ہے

    درم ہاتھ میں ہے کہ یا دام ہے

    نہ ہوتا اگر اس کو عزم شکار

    درندوں سے بچتا نہ شہر و دیار

    نہ بچتے جہاں بیچ خرد و بزرگ

    یہ ہو جاتے سب لقمۂ شیر و گرگ

    یہ انسان پر اس کا احسان ہے

    کہ بے خوف انسان کی جان ہے

    بنائی جہاں اس نے نخچیر گاہ

    رہے صید واں آکے شام و پگاہ

    رکھا صید بحری پہ جس دم خیال

    لیا پشت پر اپنی ماہی نے جال

    مگر اپنا دیتے ہیں جی جان کر

    کہ ٹاپو پہ گرتے ہیں آن آن کر

    نہ سمجھو نکلتے ہیں دریا میں سوس

    خوشی سے اچھلتے ہیں دریا میں سوس

    چرندوں کا دل اس طرف ہے لگا

    پرندوں کو رہتی ہے اس کی ہوا

    پلنگوں کا ہے بلکہ چیتا یہی

    کمر آ بندھاوے ہماری وہی

    کھڑے اَرنے ہوتے ہیں سر جوڑ جوڑ

    کہ جی کون دیتا ہے بد بد کے ہوڑ

    خبر اس کی سن کر نہ گینڈا چلے

    کہ ہاتھی بھی ہو مست، اینڈا چلے

    جو کچھ دل میں گینڈے کے آوے خیال

    تو بھاگے اس آگے سپر اپنی ڈال

    اطاعت کے حلقے سے بھاگے جو فیل

    پلک، اس کی آنکھوں میں، ہو تفتہ میل

    سو وہ تو اطاعت میں یک دست ہیں

    نشے میں محبت کے سب مست ہیں

    اسی کے لیے گو کہ ہیں وے پہاڑ

    قدم اپنے رکھتے ہیں سب گاڑ گاڑ

    کہ شاید مشرف سواری سے ہوں

    سر افراز چل کر عماری سے ہوں

    چلن جب یہ کچھ ہوویں حیوان کے

    تو پھر حق بہ جانب ہے انسان کے

    کسے ہو نہ صحبت کی اس کی ہوس

    ولے کیا کرے، جو نہ ہو دسترس

    فلک بار گاہا، ملک در گہا!

    جدا میں جو قدموں سے تیرے رہا

    نہ کچھ عقل نے اور نہ تدبیر نے

    رکھا مجھ کو محروم تقدیر نے

    پراب عقل نے میرے کھولے ہیں گوش

    دیا ہے مدد سے تری مجھ کو ہوش

    سو میں، اک کہانی بنا کر نئی

    در فکر سے گوندھ لڑیاں کئی

    لے آیا ہوں خدمت میں بہر نیاز

    یہ امید ہے پھر، کہ ہوں سرفراز

    مرے عذر تقصیر ہوویں قبول

    بہ حق علی و بہ آل رسول

    رہے جاہ و حشمت یہ تیری مدام

    بہ حق محمد، علیہ السلام

    رہیں شاد و آباد کل خیر خواہ

    پھریں اس گھرانے کے دشمن تباہ

    اب آگے کہانی کی ہے داستاں

    ذرا سنیو دل دے کے اس کا بیاں

    آغاز داستاں

    کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ

    کہ تھا وہ شہنشاہ گیتی پناہ

    ملک خو، ملک شاہ رکھتا تھا نام

    فلک پر مہ و مہر اس کے غلام

    بہت حشمت و جاہ و مال و منال

    بہت فوج سے اپنی فرخندہ حال

    کئی بادشاہ اس کو دیتے تھے باج

    خطا اور ختن سے وہ لیتا خراج

    کوئی دیکھتا آ کے جب اس کی فوج

    تو کہتا کہ: ہے بحر ہستی کی موج

    طویلے کے اس کے جو ادنی تھے خر

    انھیں نعل بندی میں ملتا تھا زر

    جہاں تک کہ سرکش تھے اطراف کے

    وہ اس شہ کے رہتے تھے قدموں لگے

    رعیت تھی آسودہ و بے خطر

    نہ غم مفلسی کا، نہ چوری کا ڈر

    عجب شہر تھا اس کا مینو سواد

    کہ قدرت خدائی کی آتی تھی یاد

    لگے تھے ہر اک جا پہ وہاں سنگ و خشت

    ہر اک کوچہ اس کا، تھا رشک بہشت

    زمیں سبز و سیراب عالم تمام

    نظر کو طراوت وہاں صبح و شام

    کہیں چاہ و منبع، کہیں حوض و نہر

    ہر اک جا پہ آب لطافت کی لہر

    عمارت تھی گچ کی وہاں پیش تر

    کہ گزرے صفائی سے جس پر نظر

    کروں اس کی وسعت کا کیا میں بیاں

    کہ جوں اصفہاں، تھا وہ نصف جہاں

    ہنر مند واں اہل حرفہ تمام

    ہر اک نوع کی خلق کا ازدحام

    یہ دل چسپ بازار تھا چوک کا

    کہ ٹھہرے جہاں، بس وہیں دل لگا

    جہاں تک یہ رستے تھے بازار کے

    کہے تو کہ تختے تھے گلزار کے

    صفا پر جو اس کی نظر کر گئے

    اسے دیکھ کر سنگ مرمر گئے

    کہوں قلعے کی اس کے کیا میں شکوہ

    گئے دب، بلندی کو دیکھ اس کی، کوہ

    وہ دولت سرا خانۂ نور تھا

    سدا عیش و عشرت سے معمور تھا

    ہمیشہ خوشی، رات دن سیر باغ

    نہ دیکھا کسی دل پہ، جز لالہ، داغ

    سدا عیش و عشرت، سدا راگ و رنگ

    نہ تھا زیست سے کوئی اپنی بہ تنگ

    غنی وہاں وا، جو کہ آیا تباہ

    عجب شہر تھا وہ عجب بادشاہ

    نہ دیکھا کسی نے کوئی واں فقیر

    ہوئے اس کی دولت سے گھر گھر امیر

    کہاں تک کہوں اس کا جاہ و حشم

    محل و مکاں اس کا رشک ارم

    ہزاروں پری پیکر اس کے غلام

    کمر بستہ خدمت میں حاضر مدام

    سدا ماہ رویوں سے صحبت اسے

    سدا جامہ زیبوں سے رغبت اسے

    کسی طرف سے وہ نہ رکھتا تھا غم

    مگر ایک اولاد کا تھا الم

    اسی بات کا اس کے تھا دل پہ داغ

    نہ رکھتا تھا وہ اپنے گھر کا چراغ

    دنوں کا عجب اس کے یہ پھیر تھا

    کہ اس روشنی پہ یہ اندھیر تھا

    وزیروں کو اک روز اس نے بلا

    جو کچھ دل کا احوال تھا، سو کہا

    کہ میں کیا کروں گا یہ مال و منال

    فقیری کا ہے میرے دل کو خیال

    فقیر اب نہ ہوں، تو کروں کیا علاج

    نہ پیدا ہوا وارث تخت و تاج

    جوانی مری ہو گئی سب بسر

    نمودار پیری ہوئی سر بہ سر

    دریغا کہ عہد جوانی گذشت

    جوانی مگو، زندگانی گذشت

    بہت ملک پر جان کھویا کیا

    بہت فکر دنیا میں رویا کیا

    زہے بے تمیزی و بے حاصلی

    کہ از فکر دنیا، ز دیں غافلی

    وزیروں نے کی عرض کہ اے آفتاب!

    نہ ہو تجھ کو ذرہ کبھی اضطراب

    فقیری جو کیجے تو دنیا کے ساتھ

    نہیں خوب، جانا ادھر خالی ہاتھ

    کرو سلطنت، لے کے اعمال نیک

    کہ تا دو جہاں میں رہے حال نیک

    جو عاقل ہوں، وے سوچ میں ٹک رہیں

    کہ ایسا نہ ہووے کہ پھر سب کہیں

    تو کار زمیں را نکو ساختی

    کہ بر آسماں نیز پرداختی

    یہ دنیا جو ہے مزرع آخرت

    فقیری میں ضائع کرو اس کو مت

    عبادت سے اس کشت کو آب دو

    وہاں جا کے خرمن ہی تیار لو

    رکھو یاد عدل و سخاوت کی بات

    کہ اس فیض سے ہے تمہاری نجات

    مگر ہاں، یہ اولاد کا ہے جو غم

    سو اس کا تردد بھی کرتے ہیں ہم

    عجب کیا کہ ہووے تمہارے خلف

    کرو تم نہ اوقات اپنی تلف

    نہ لاؤ کبھی یاس کی گفتگو

    کہ قرآں میں آیا ہے: لا تقنطو

    بلاتے ہیں ہم اہل تنجیم کو

    نصیبوں کو اپنے ذرا دیکھ لو

    تسلی تو دی شاہ کو اس نمط

    ولے اہل تنجیم کو بھیجے خط

    نجومی و رَمّال اور برہمن

    غرض یاد تھا جن کو اس ڈھب کا فن

    بلا کر انہیں شہ کنے لے گئے

    جوں ہی رو بہ رو شہ کے سب وے گئے

    پڑا جب نظر وہ شہ تاج و تخت

    دعا دی کہ ہوں شہ کے بیدار بخت

    کیا قاعدے سے نہڑ کر سلام

    کہا شہ نے: میں تم سے رکھتا ہوں کام

    نکالو ذرا اپنی اپنی کتاب

    مرا ہے سوال، اس کا لکھو جواب

    نصیبوں میں دیکھو تو میرے کہیں

    کسی سے بھی اولاد ہے یا نہیں

    یہ سن کر، وے رمال طالع شناس

    لگے کھینچنے زائچے بے قیاس

    دھرے تختے آگے، لیا قرعہ ہاتھ

    لگا دھیان اولاد کا اس کے ساتھ

    جو پھینکیں، تو شکلیں کئی بیٹھیں مل

    کئی شکل سے دل گیا ان کا کھل

    جماعت نے رمال کی عرض کی

    کہ ہے گھر میں امید کے کچھ خوشی

    یہ سن ہم سے اے عالموں کے شفیق

    بہت ہم نے تکرار کی ہر طریق

    بیاض اپنی دیکھی جو اس رَمل کی

    تو ایک ایک نکتہ، ہے فرد خوشی

    ہے اس بات پر اجتماع تمام

    کہ طالع میں فرزند ہے تیرے نام

    زن و زوج کے گھر میں ہے گی فرح

    پیا کر مے وصل کا تو قدح

    نجومی بھی کہنے لگے در جواب

    کہ ہم نے بھی دیکھی ہے اپنی کتاب

    نحوست کے دن سب گئے ہیں نکل

    عمل اپنا سب کر چکا ہے زحل

    ستارے نے طالع کے، بدلے ہیں طور

    خوشی کا کوئی دن میں آتا ہے دور

    نظر کی جو تسدیس و تثلیث پر

    تو دیکھا کہ ہے نیک سب کی نظر

    کیا پنڈتوں نے جو اپنا بچار

    تو کچھ انگلیوں پر کیا پھر شمار

    جنم پترا شاہ کا دیکھ کر

    تُلا اور بِرچھک پہ کر کر نظر

    کہا: رام جی کی ہے تم پر دیا

    چندرما سا بالک ترے ہووے گا

    نکلتے ہیں اب تو خوشی کے بچن

    نہ ہو گر خوشی، تو نہ ہوں برہمن

    مہاراج کے ہوں گے مقصد شتاب

    کہ آیا ہے اب پانچواں آفتاب

    نصیبوں نے کی آپ کے یاوری

    کہ آئی ہے اب ساتویں مشتری

    مقرر ترے، چاہیے، ہو پسر

    کہ دیتی ہے یوں اپنی پوتھی خبر

    وہ لیکن مقدر ہے کچھ اور بھی

    کہ ہیں اس بھلے میں، برے طور بھی

    یہ لڑکا تو ہو گا، ولے کیا کہیں

    خطر ہے اسے بارھویں برس میں

    نہ آوے یہ خورشید بالائے بام

    بلندی سے خطرہ ہے اس کو تمام

    نہ نکلے یہ بارہ برس رشک مہ

    رہے برج میں یہ مہ چاردہ

    کہا شہ نے یہ سن کے، ان کے تئیں

    کہو، جی کا خطرہ تو اس کو نہیں؟

    کہا: جان کی سب طرح خیر ہے

    مگر دشت غربت کی کچھ سیر ہے

    کوئی اس پہ عاشق ہو جن و پری

    کوئی اس کی معشوق ہو استری

    کچھ ایسا نکلتا ہے پوتھی میں اب

    خرابی ہو اس پر کسی کے سبب

    ہوئی کچھ خوشی شہ کو اور کچھ الم

    کہ دنیا میں توام ہیں شادی و غم

    کہا شہ نے: اس پر نہیں اعتبار

    جو چاہے کرے میرا پروردگار

    یہ فرما، محل میں در آمد ہوئے

    منجم وہاں سے بر آمد ہوئے

    خدا پر زبس اس کا تھا اعتقاد

    لگا مانگنے اپنی حق سے مراد

    خدا سے لگا کرنے وہ التجا

    لگا آپ مسجد میں رکھنے دیا

    نکالا مرادوں کا آخر سراغ

    لگائی ادھر لَو، تو پایا چراغ

    سحاب کرم نے کیا جو اثر

    ہوئی کشت امید کی بارور

    اسی سال میں، یہ تماشا سنو

    رہا حمل اک زوجۂ شاہ کو

    جو کچھ دل پہ گزرے تھے رنج و تعب

    مبدّل ہوئے وے خوشی ساتھ سب

    خوشی سے پلا مجھ کو ساقی! شراب

    کوئی دم میں بجتا ہے چنگ و رباب

    کروں نغمۂ تنہنیت کو شروع

    کہ اک نیک اختر کرے ہے طلوع

    داستان تولد ہونے کی شاہ زادہ بے نظیر کے

    گئے نو مہینے جب اس پر گزر

    ہوا گھر میں شہ کے تولد پسر

    عجب صاحب حسن پیدا ہوا

    جسے مہرومہ دیکھ شیدا ہوا

    نظر کو نہ ہو حسن پر اُس کے تاب

    اسے دیکھ، بے تاب ہو آفتاب

    ہوا وہ جو اُس شکل سے دل پذیر

    رکھا نام اس کا شہ بے نظیر

    خواصوں نے، خواجہ سراؤں نے جا

    کئی نذریں گزرانیاں اور کہا

    مبارک تجھے اے شہ نیک بخت!

    کہ پیدا ہوا وارث تاج و تخت

    سکندر نژاد اور دارا حشم

    فلک مرتبت اور عطارد رقم

    رہے اس کے اقلیم زیر نگیں

    غلامی کریں اس کی خاقان چیں

    یہ سنتے ہی مژدہ، بچھا جا نماز

    کیے لاکھ سجدے، کہ اے بے نیاز!

    تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار

    نہ ہو تجھ سے مایوس، امید دار

    دوگانہ غرض شکر کا کر ادا

    تہیہ کیا شاہ نے جشن کا

    وے نذریں خواصوں کی، خوجوں کی لے

    انہیں خلعت و زر کا انعام دے

    کہا: جاؤ، جو کچھ کہ درکار ہو

    کہو خانساماں سے تیار ہو

    نقیبوں کو بلوا کے یہ کہ دیا

    کہ نقار خانے میں دو حکم جا

    کہ نوبت خوشی کی بجاویں تمام

    خبر سن کے یہ شاد ہوں خاص و عام

    یہ مژدہ جو پہنچا، تو نقارچی

    لگا ہر جگہ بادلا اور زری

    بنا ٹھاٹھ نقار خانے کا سب

    مہیا کر اسباب عیش و طرب

    غلاف اس پہ بانات پر زر کے ٹانک

    شتابی سے نقاروں کو سینک سانک

    دیا چوب کو پہلے بم سے ملا

    لگی پھیلنے ہر طرف کو صدا

    کہا زیر سے بم نے بہر شگوں

    کہ دوں دوں خوشی کی خبر کیوں نہ دوں

    بجے شادیانے جو واں اس گھڑی

    ہوئی گرد و پیش آ کے خلقت کھڑی

    بہم مل کے بیٹھے جو شہنا نواز

    بنا منہ سے پھرکی، لگا اس پہ ساز

    سروں پر وے سر پیچ معمول کے

    خوشی سے، ہوئے گال گل، پھول کے

    لگے لینے اپجیں خوشی سے نئی

    اڑانا لگا بجنے اور سگھڑئی

    ٹکوروں میں نوبت کے شہنا کی دھن

    سگھڑ سننے والوں کو کرتی تھی سن

    ترھی اور قرنائے شادی کے دم

    لگے بھرنے زیل اور کھرج میں بہم

    سنی جھانجھ نے جو خوشی کی نوا

    تھرکنے لگا، تالیوں کو بجا

    نئے سر سے عالم کو عشرت ہوئی

    کہ لڑکے کے ہونے کی نوبت ہوئی

    محل سے لگا تابہ دیوان عام

    عجب طرح کا اک ہوا ازدحام

    چلے لے کے نذریں وزیر و امیر

    لگے کھینچنے زر کے تودے فقیر

    دیے شاہ نے شاہزادے کے نانو

    مشائخ کو اور پیر زادوں کو گانو

    امیروں کو جاگیر، لشکر کو زر

    وزیروں کو الماس و لعل و گہر

    خواصوں کو، خوجوں کو جوڑے دیے

    پیادے جو تھے، ان کو گھوڑے دیے

    خوشی سے کیا یاں تلک زر نثار

    جسے ایک دینا تھا، بخشے ہزار

    کیا بھانڈ اور بھکتیوں نے ہجوم

    ہوئی ’’آہے آہے مبارک‘‘ کی دھوم

    لگا کنچنی، چونا پزنی تمام

    کہاں تک میں لوں نرت کاروں کا نام

    جہاں تک کہ سازندے تھے ساز کے

    دھنی دست کے اور آواز کے

    جہاں تک کہ تھے گایک اور تنت کار

    لگے گانے اور ناچنے ایک بار

    لگے بجنے قانون و بین و رباب

    بہا ہر طرف جوئے عشرت کا آب

    لگی تھاپ طبلوں پہ مردنگ کی

    صدا اونچی ہونے لی چنگ کی

    کمانچوں کو، سارنگیوں کو بنا

    خوشی سے ہر اک ان کی تربیں ملا

    لگا تار پر موم مرچنگ کے

    ملا سر طنبوروں کے یک رنگ کے

    ستاروں کے پردے بنا کر درست

    بجانے لگے سب وے چالاک و چست

    گئی بائیں کی آسماں پر گمک

    اٹھا گنبد چرخ سارا دھمک

    خوشی کی زبس ہر طرف تھی بساط

    لگے ناچنے اس پہ اہل نشاط

    کناری کے جوڑے چمکتے ہوئے

    دو پانوں میں گھنگرو جھنکتے ہوئے

    وہ گھٹنا، وہ بڑھنا اداؤں کے ساتھ

    دکھانا وہ رکھ رکھ کے چھاتی پہ ہاتھ

    دو بالے چمکتے ہوئے کان میں

    پھڑکنا وہ نتھنے کا ہر آن میں

    کبھی دل کو پاؤں سے مل ڈالنا

    نظر سے کبھی دیکھنا بھالنا

    دکھانا کبھی اپنی چھب مسکرا

    کبھی اپنی انگیا کو لینا چھپا

    کسی کے وہ مکھڑے پہ نتھ کی پھبن

    کسی کے چمکتے ہوئے نورتن

    وہ دانتوں کی مسی، وہ گل برگ تر

    شفق میں عیاں جیسے شام و سحر

    وہ گرمی کے چہرے، کہ جوں آفتاب

    جسے دیکھ کر دل کو ہو اضطراب

    چمکنا گلوں کا صفا کے سبب

    وہ گردن کے ڈورے قیامت، غضب

    کبھی منہ کے تئیں پھیر لینا ادھر

    کبھی چوری چوری سے کرنا نظر

    دوپٹے کو کرنا کبھی منہ کی اوٹ

    کہ پردے میں ہو جائیں دل لوٹ پوٹ

    ہر اک تان میں ان کو ارمان یہ

    کہ دل لیجئے تان کی جان یہ

    کوئی فن میں سنگیت کے شعلہ رو

    برم، جوگ، لچھمی کی لے، پر ملو

    کوئی ڈیڑھ گت ہی میں پانوں تلے

    کھڑی عاشقوں کے دلوں کو ملے

    کوئی دائرے میں بجا کر پرن

    کوئی ڈھمڈھمی میں دکھا اپنا فن

    غرض ہر طرح دل کو لینا انہیں

    نئی طرح سے داغ دینا انہیں

    کبھی مار ٹھوکر، کریں قتل عام

    کبھی ہاتھ اٹھا، لیویں گرتے کو تھام

    کہیں دھرپت اور گیت کا شور و غل

    کہیں قول و قلبانہ و نقش و گل

    کہیں بھانڈ کے ولولوں کا سماں

    کہیں ناچ کشمیریوں کا وہاں

    منجیرا، پکھاوج، گلے ڈال ڈھول

    بجاتے تھے اس جا کھڑے، باندھ غول

    محل میں جو دیکھو تو اک ازدحام

    مبارک سلامت کی تھی دھوم دھام

    وہاں بھی تو تھی عیش و عشرت کی دھوم

    پری پیکروں کا ہر اک جا ہجوم

    چھٹی تک غرض تھی خوشی ہی کی بات

    کہ دن عید اور رات تھی شب برات

    بڑھے ابر ہی ابر میں جوں ہلال

    محل میں لگا پلنے وہ نو نہال

    برس گانٹھ جس سال اس کی ہوئی

    دل بستگاں کی گرہ کھل گئی

    وہ گل جب کہ چوتھے برس میں لگا

    بڑھایا گیا دودھ اس ماہ کا

    ہوئی تھی جو کچھ پہلے شادی کی دھوم

    اسی طرح سے پھر ہوا وہ ہجوم

    طوائف وہی اور وہی راگ و رنگ

    ہوئی بلکہ دونی خوشی کی ترنگ

    وہ گل پانو سے اپنے جس جا چلا

    وہاں آنکھ کو نرگسوں نے ملا

    لگا پھرنے وہ سرو جب پانو پانو

    کیے بَردے آزاد تب اس کے نانو

    داستان تیاری میں باغ کی

    مے ارغوانی پلا ساقیا!

    کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا

    دیا شہ نے ترتیب اک خانہ باغ

    ہوا رشک سے جس کے، لالے کو داغ

    عمارت کی خوبی، دروں کی وہ شان

    لگے جس میں زر بفت کے سا یبان

    چقیں اور پردے بندھے زر نگار

    دروں پر کھڑی دست بستہ بہار

    کوئی دور سے در پر اٹکا ہوا

    کوئی زہ پہ خوبی سے لٹکا ہوا

    وہ مقیش کی ڈوریاں سر بہ سر

    کہ مہ کا بندھا جس میں تار نظر

    چقوں کا تماشا، تھا انکھوں کا جال

    نگہ کو وہاں سے گزرنا محال

    سنہری، مغرق چھتیں ساریاں

    وہ دیوار اور در کی گل کاریاں

    دیے چار سو آئنے جو لگا

    گیا چوگنا لطف اس میں سما

    وہ مخمل کا فرش اس میں ستھرا کہ بس

    بڑھے جس کے آگے نہ پاے ہوس

    رہیں لخلخے اس میں روشن مدام

    معطر شب و روز جس سے مشام

    چھپر کھٹ مرصع کا دالان میں

    چمکتا تھا اس طرح ہر آن میں

    زمیں پر تھی اس طور اس کی جھلک

    ستاروں کی جیسے فلک پر چمک

    زمیں کا کروں دھاں کی کیا میں بیا ں

    کہ صندل کا اک پارچہ تھا عیاں

    بنی سنگ مر مر سے چو پڑ کی نہر

    گئی چارسو، اس کے پانی کی لہر

    قرینے سے گرد اس کے سروسہی

    کچھ اک دور دور اس سے سیب و بہی

    کہوں کیا میں کیفیت دار بست

    لگائے رہیں تاک وہاں مے پرست

    ہواے بہاری سے گل لہلہے

    چمن سارے شاداب اور ڈہڈ ہے

    زمرد کی مانند سبزے کا رنگ

    روش کا، جواہر ہوا جس سے سنگ

    روش کی صفائی پہ بے اختیار

    گل اشرفی نے کیا زر نثار

    چمن سے بھرا باغ، گل سے چمن

    کہیں نرگس و گل، کہیں یاسمن

    چنبیلی کہیں اور کہیں موتیا

    کہیں راے بیل اور کہیں موگرا

    کھڑے شاخ شبو کے ہر جانشان

    مدن بان کی اور ہی آن بان

    کہیں ارغواں اور کہیں لالہ زار

    جدی اپنے موسم میں سب کی بہار

    کہیں چاندنی میں گلوں کی بہار

    ہر اک گل سفیدی سے مہتاب وار

    کھڑے سرو کی طرح چمپے کے جھاڑ

    کہے تو کہ خوش بوئیوں کے پہاڑ

    کہیں زرد نسریں، کہیں نسترن

    عجب رنگ پر زعفرانی چمن

    پڑی آبجو، ہر طرف کو بہے

    کریں قمریاں سرو پر چہچہے

    گلوں کا لب نہر پر جھومنا

    اسی اپنے عالم میں منہ چومنا

    وہ جھک جھک کے گرنا خیابان پر

    نشے کا سا عالم گلستان پر

    لیے بیلچے ہاتھ میں مالنے

    چمن کو لگیں دیکھنے بھالنے

    کہیں تخم پاشی کریں کھود کر

    پنیری جماویں کہیں گود کر

    کھڑے شاخ در شاخ باہم نہال

    رہیں ہاتھ جوں مست گردن پہ ڈال

    لب جو کے آئینے میں دیکھ قد

    اکڑنا کھڑے سرو کا جد نہ تد

    خراماں صبا صحن میں چار سو

    دماغوں کو دیتی پھرے گل کی بو

    کھڑے نہر پر قاز اور قر قرے

    لیے ساتھ مرغابیوں کے پرے

    صدا قر قروں کی، بطوں کا وہ شور

    درختوں پہ بگلے، منڈیروں پہ مور

    چمن آتش گل سے دہکا ہوا

    ہوا کے سبب باغ مہکا ہوا

    صبا جو گئی ڈھیریاں کر کے بھول

    پڑے ہر طرف مونسریوں کے پھول

    وہ کیلوں کی اور مونسریوں کی چھانو

    لگی جائیں آنکھیں لیے جن کا نانو

    خوشی سے گلوں پر سدا بلبلیں

    تعشق کی آپس میں باتیں کریں

    درختوں نے برگوں کے کھولے ورق

    کہ لیں طوطیاں بوستاں کا سبق

    سماں قمریاں دیکھ اس آن کا

    بڑھیں باب پنجم گلستان کا

    دوا، دائیاں اور مغلانیاں

    پھریں ہر طرف اس میں جلوہ کناں

    خواصوں کا اور لونڈیوں کا ہجوم

    محل کی وہ چہلیں، وہ آپس کی دھوم

    تکلف کے پہنے پھریں سب لباس

    رہیں رات دن شاہ زادے کے پاس

    کنیزان مہ رو کی ہر طرف ریل

    چنبیلی کوئی اور کوئی راے بیل

    شگوفہ کوئی اور کوئی کام روپ

    کوئی چت لگن اور کوئی سیام روپ

    کوئی کیتکی اور کوئی گلاب

    کوئی مہ رتن اور کوئی ماہتاب

    کوئی سیوتی اور ہنس مکھ کوئی

    کوئی دل لگن اور تن سکھ کوئی

    ادھر اور ادھر آتیاں جاتیاں

    پھریں اپنے جوبن میں اتراتیاں

    کہیں چٹکیاں اور کہیں تالیاں

    کہیں قہقہے اور کہیں گالیاں

    کہیں اپنی پٹی سنوارے کوئی

    اری اور تری کہہ پکارے کوئی

    بجاتی پھرے کوئی اپنے کڑے

    کہیں ’’ہوئے رے‘‘ اور کہیں ’’واچھڑے‘‘

    دکھاوے کوئی گو کھرو موڑ موڑ

    کہیں سوت بونٹی، کہیں تار توڑ

    ادا سے کوئی بیٹھی حقہ پیے

    دم دوستی کوئی بھر بھر جیے

    کوئی حوض میں جاکے غوطہ لگائے

    کوئی نہر پر پانو بیٹھی ہلائے

    کوئی اپنے توتے کی لیوے خبر

    کوئی اپنی مینا پہ رکھے نظر

    کسی کو کوئی دھول مارے کہیں

    کوئی جان کو اپنی وارے کہیں

    کوئی آرسی اپنے آگے دھرے

    ادا سے کہیں بیٹھی کنگھی کرے

    مقابا کوئی کھول مسی لگائے

    لبوں پر دھڑی کوئی بیٹھی جمائے

    ہوا ان گلوں سے دوبالا سماں

    اسی باغ میں یہ بھی باغ رواں

    غرض لوگ تھے یہ جو ہر کام کے

    سو سب واسطے اس کے آرام کے

    پلا جب وہ اس ناز و نعمت کے ساتھ

    پدر اور مادر کی شفقت کے ساتھ

    ہوئی اس کے مکتب کی شادی عیاں

    ہوا پھر انہیں شادیوں کا سماں

    معلم، اتالیق، منشی، ادیب

    ہر اک فن کے استاد بیٹھے قریب

    کیا قاعدے سے شروع کلام

    پڑھانے لگے علم اس کو تمام

    دیا تھا زبس حق نے ذہن رسا

    کئی برس میں علم سب پڑھ چکا

    معانی و منطق، بیان و ادب

    پڑھے اس نے منقول و معقول سب

    خبردار حکمت کے مضمون سے

    غرض جو پڑھا اس نے، قانون سے

    لگا ہیئت و ہندسہ تا نجوم

    زمیں آسماں میں پڑی اس کی دھوم

    کیے علم نوک زباں حرف حرف

    اسی نحوسے عمر کی اس نے صرف

    عطارد کو اس کی لگی آنے ریس

    ہوا سادہ لوحی میں وہ خوش نویس

    ہوا جب کہ نو خط وہ شیریں رقم

    بڑھا کر لکھے سات سے، نو قلم

    لیا ہاتھ جب خامۂ مشک بار

    لکھا نسخ و ریحان و خط غبار

    عروس الخطوط اور ثلث و رقاع

    خفی و جلی مثل خط شعاع

    شکستہ لکھا اور تعلیق جب

    رہے دیکھ، حیراں، اتالیق سب

    کیا خط گلزار سے جب فراغ

    ہوا صفحۂ قطعہ، گلزار باغ

    کروں علم کو اس کے کیا میں عیاں

    کروں مختصر یاں سے اب یہ بیاں

    کماں کے جو درپے ہوا بے نظیر

    لیا کھینچ چلے میں سب فن تیر

    صفائی میں سو فار، پیکاں کیا

    گیا جب کہ تودے پہ، طوفاں کیا

    رکھا چھوٹتے ہی جو لکڑی پہ من

    لیا اپنے قبضے میں سب اس کا فن

    ہوئیں دست و بازو کی سر سائیاں

    اڑائیں کئی ہاتھ میں گھائیاں

    رکھا موسیقی پر بھی کچھ جو خیال

    کیے قید سب اس نے ہاتھوں میں تال

    طبیعت گئی کچھ جو تصویر پر

    رکھے رنگ سب اس نے مد نظر

    کئی دن میں سیکھا یہ کسب تفنگ

    کہ حیراں ہوئے دیکھ، اہل فرنگ

    سو ان کمالوں کے، کتنے کمال

    مروت کی خو، آدمیت کی چال

    رذالوں سے، نفروں سے نفرت اسے

    غرض قابلوں ہی سے صحبت اسے

    گیا نام پر اپنے وہ دل پذیر

    ہر اک فن میں سچ مچ ہوا بے نظیر

    داستان سواری کی تیاری کے حکم میں

    پلا ساقیا! مجھ کو اک جام مل

    جوانی پر آیا ہے ایام گل

    غنیمت شمر صحبت دوستاں

    کہ گل پنج روز است در بوستاں

    ثمر لے بھلائی کا، گر ہو سکے

    شتابی سے بو لے، جو کچھ بو سکے

    کہ رنگ چمن پر نہیں اعتبار

    یہاں چرخ میں ہے خزان و بہار

    پڑی جب گرہ بارہویں سال کی

    کھلی گل جھڑی غم کے جنجال کی

    کہا شہ نے بلوا نقیبوں کو شام

    کہ ہوں صبح حاضر سبھی خاص و عام

    سواری تکلف سے تیار ہو

    مہیا کریں، جو کہ درکار ہو

    کریں شہر کو مل کے آئینہ ہند

    سواری کا ہو لطف جس سے دو چند

    رعیت کے خوش ہوں صغیر و کبیر

    کہ نکلے گا کل شہر میں بے نظیر

    یہ فرما، محل میں گئے بادشاہ

    نقیبوں نے سن حکم، لی اپنی راہ

    ہوئی شب، لیا مہ نے جام شراب

    گیا سجدۂ شکر میں آفتاب

    خوشی سے گئی جلد جو شب گزر

    ہوئی سامنے سے نمایاں سحر

    عجب شب تھی وہ جوں سحر روسپید

    عجب روز تھا مثل روز امید

    گیا مژدۂ صبح لے ماہتاب

    اٹھا سورج آنکھوں کو ملتا شتاب

    کہا شاہ نے اپنے فرزند کو

    کہ بابا! نہا دھو کے تیار ہو

    داستان حمام کے نہانے کی لطافت میں

    پلا آتشیں آب پیر مغاں!

    کہ بھولے مجھے گرم و سرد جہاں

    اگر چاہتا ہے مرے دل کا چین

    نہ دینا وہ ساغر جو ہو قلتین

    کدورت مرے دل کی دھو ساقیا

    ذرا شیشئہ مے کو دھو دھا کے لا

    کہ سر گرم حمام ہے بے نظیر

    گیا ہے نہانے کو ماہ منیر

    ہوا جب کہ داخل وہ حمام میں

    عرق آ گیا اس کے اندام میں

    تن نازنیں نم ہوا س کا گل

    کہ جس طرح ڈوبے ہے شبنم میں گل

    پرستار، باندھے ہوئے لنگیاں

    مہ و مہر سے طاس لے کر وہاں

    لگے ملنے اس گل بدن کا بدن

    ہوا ڈہڈہا آب سے وہ چمن

    نہانے میں یوں تھی بدن کی دمک

    برسنے میں بجلی کی جیسے چمک

    لبوں پر جو پانی پھرا سر بہ سر

    نظر آئے، جیسے دو گل برگ تر

    ہوا قطرۂ آب یوں چشم بوس

    کہے تو، پڑے جیسے نرگس پہ اوس

    لگا ہونے ظاہر جو اعجاز حسن

    ٹپکنے لگا اس سے انداز حسن

    گیا حوض میں جو شہ بے نظیر

    پڑا آب میں عکس ماہ منیر

    وہ گورا بدن اور بال اس کے تر

    کہے تو کہ ساون کی شام و سحر

    نمی کا تھا بالوں کی عالم عجب

    نہ دیکھی کوئی خوب تر اس سے شب

    کہوں اس کی خوبی کی کیا تجھ سے بات

    کہ جوں بھیگتی جاوے صحبت میں رات

    زمیں پر تھا اک موجۂ نور خیز

    ہوا جب وہ فوارہ ساں آب ریز

    زمرد کے لے ہاتھ میں سنگ پا

    کیا خادموں نے جو آہنگ پا

    ہنسا کھلکھلا وہ گل نو بہار

    لیا کھینچ پانوں کو بے اختیار

    عجب عالم اس نازنیں پر ہوا

    اثر گد گدی کا جبیں پر ہوا

    ہنسا اس ادا سے کہ سب ہنس پڑے

    ہوئے جی سے قربان چھوٹے بڑے

    دعائیں لگے دینے بے اختیار

    کہا: خوش رکھے تجھ کو پرور دگار

    کہ تیری خوشی سے، ہے سب کی خوشی

    مبارک تجھے روز و شب کی خوشی!

    نہ آوے کبھی تیری خاطر پہ میل

    چمکتا رہے یہ فلک کا سہیل

    کیا غسل جب اس لطافت کے ساتھ

    اڑھا کھیس، لائے اسے ہاتھوں ہاتھ

    نہا دھو کے نکلا وہ گل اس طرح

    کہ بدلی سے نکلے ہے مہ جس طرح

    غرض شاہ زادے کو نہلا دھلا

    دیا خلعت خسروانہ پنہا

    جواہر سراسر پنہایا اسے

    جواہر کا دریا بنایا اسے

    لڑی، لٹکن اور کلغی اور نورتن

    عدد ایک سے ایک زیب بدن

    مرصع کا سر پیچ جوں موج آب

    مصفّا بہ شکل گل آفتاب

    وہ موتی کے مالے بہ صد زیب و زین

    کہیں جس کو آرام جاں، دل کا چین

    جواہر کا تن پر عجب تھا ظہور

    کہ ایک ایک عدد اس کا، تھا کوہ طور

    غرض ہو کے اس طرح آراستہ

    خراماں ہوا سرو نوخاستہ

    نکل گھر سے جس دم ہوا وہ سوار

    کیے خوان گوہر کے اس پر نثار

    زبس تھا سواری کا باہر ہجوم

    ہوا جب کہ ڈنکا، پڑی سب میں دھوم

    برابر برابر کھڑے تھے سوار

    ہزاروں ہی تھی ہاتھیوں کی قطار

    سنہری، رپہری تھیں عماریاں

    شب و روز کی سی طرح داریاں

    چمکتے ہوئے بادلوں کے نشان

    سواروں کے غٹ اور بھالوں کی شان

    ہزاروں تھی اطراف میں پالکی

    جھلا بور کی جگمگی نالکی

    کہاروں کی زر بفت کی کرتیاں

    اور ان کے دبے پانو کی پھرتیاں

    بندھیں پگڑیاں تاش کی سر اوپر

    چکا چوندھ میں جس سے آوے نظر

    وہ ہاتھوں میں سونے کے موٹے کڑے

    جھلک جس کی ہر ہر قدم پر پڑے

    وہ ماہی مراتب، وہ تخت رواں

    وہ نوبت، کہ دولھا کا جس سے سماں

    وہ شہنائیوں کی صدا خوش نوا

    سہانی وہ نوبت کی اس میں صدا

    وہ آہستہ گھوڑوں پہ نقارچی

    قدم با قدم بالباس زری

    بجاتے ہوئے شادیا نے تمام

    چلے آگے آگے ملے، شاد کام

    سوار اور پیادے، صغیر و کبیر

    جلو میں تمامی امیر و وزیر

    وے نذریں کہ جس جس نے تھیں ٹھانیاں

    شہ و شاہ زادے کو گزرانیاں

    ہوئے حکم سے شاہ کے پھر سوار

    چلے سب قرینے سے باندھے قطار

    سجے اور سجائے سبھی خاص و عام

    لباس زری میں ملبس تمام

    طرق کے طرق اورپرے کے پرے

    کچھ ایدھر ادھر، کچھ ورے، کچھ پرے

    مرصع کے سازوں سے کوتل سمند

    کہ خوبی میں روح الفرس سے دو چند

    وہ فیلوں کی اور میگ ڈمبر کی شان

    جھلکتے وہ مقیش کے سایبان

    چلی پایۂ تخت کے ہو قریب

    بہ دستور شاہانہ نپتی جریب

    سواری کے آگے کیے اہتمام

    لیے سونے روپے کے عاصے تمام

    نقیب اور جلو دار اور چوبدار

    یہ آپس میں کہتے تھے ہر دم پکار

    اسی اپنے معمول و دستور سے

    ادب سے تفاوت سے اور دور سے

    یلو! نوجوانو! بڑھے جائیو

    دو جانب سے باگیں لیے آئیو

    بڑھے جائیں آگے سے، چلتے قدم

    بڑھے عمر و دولت قدم با قدم

    غرض اس طرح سے سواری چلی

    کہے تو کہ باد بہاری چلی

    تماشائیوں کا جدا تھا ہجوم

    ہر اک طرف تھی ایک عالم کی دھوم

    لگا قلعے سے شہر کی حد تلک

    دکانوں پہ تھی بادلے کی جھلک

    کیا تھا زبس شہر آئینہ بند

    ہوا چوک کا لطف واں چار چند

    منڈھے تھے تمامی سے دیوار و در

    تمامی وہ تھا شہر، سونے کا گھر

    رعیت کی کثرت، ہجوم سپاہ

    گزرتی تھی رک رک کے ہر جانگاہ

    ہوئے جمع کھوٹھوں پہ جو مردوزن

    ہر اک سطح تھی جوں زمین چمن

    یہ خالق کی سن قدرت کا ملہ

    تماشے کو نکلی زن حاملہ

    لگا لنج سے تا ضعیف و نحیف

    تماشے کو نکلے وضیع و شریف

    وحوشوں، طیوروں تلک بے خلل

    پڑے آشیانوں سے اپنے نکل

    نہ پہنچا جو اک مرغ قبلہ نما

    سو وہ آشیانے میں تڑپھا کیا

    زبس شاہ زادہ بہت تھا حسیں

    ہوئے دیکھ عاشق کہین و مہیں

    نظر جس کو آیا وہ ماہ تمام

    کیا اس نے جھک جھک کے اس کو سلام

    دعا شاہ کو دی کہ بار الٰہ!

    سدا یہ سلامت رہے مہر و ماہ

    یہ خوش اپنے مہ سے رہے شہر یار

    کہ روشن رہے شہر، پروردگار!

    غرض شہر سے باہر اک سمت کو

    کوئی باغ تھا شہ کا، اس میں سے ہو

    گھڑی چار تک خوب سی سیر کر

    رعیت کو دکھلا کے اپنا پسر

    اسی کثرت فوج سے ہو سوار

    پھر اشہر کی طرف وہ شہر یار

    سواری کو پہنچا گئی فوج، ادھر

    گئے اپنی منزل میں شمس و قمر

    جہاں تک کہ تھیں خادمان محل

    خوشی سے وہ ڈیوڑھی تک آئیں نکل

    قدم اپنے حجروں سے باہر نکال

    لیا سب نے، آپیشوا، حال حال

    بلائیں لگیں لینے سب ایک بار

    کیا جی کو یک دست سب نے نثار

    گیا جب محل میں وہ سر و رواں

    بندھا ناچ اور راگ کا پھر سماں

    پہر رات تک، پہنے پوشاک وہ

    رہا ساتھ سب کے طرب ناک وہ

    قضارا وہ شب، تھی شب چار دہ

    پڑا جلوہ لیتا تھا ہر طرف مہ

    نظارے سے تھا اس کے، دل کو سرور

    عجب عالم نور کا تھا ظہور

    عجب جوش تھا نور مہتاب کا

    کہے تو کہ دریا تھا سیماب کا

    ہوا شاہ زادے کا دل بے قرار

    یہ دیکھی جو واں چاندنی کی بہار

    کچھ آئی جو اس مہ کے جی میں ترنگ

    کہا: آج کوٹھے پہ بچھے پلنگ

    خواصوں نے جا شاہ سے عرض کی

    کہ شہ زادے کی آج یوں ہے خوشی

    ارادہ ہے کوٹھے پر آرام کا

    کہ بھایا ہے عالم لب بام کا

    کہا شہ نے: اب تو گئے دن نکل

    اگر یوں ہے مرضی تو کیا ہے خلل

    پر اتنا ہے، اس سے خبردار ہوں

    جنھوں کی ہے چوکی، وہ بیدار ہوں

    لب بام پر جب یہ سووے صنم

    کریں سورۂ نور کو اس پہ دم

    تمھارا مرا بول بالا رہے

    یہ اس گھر کا قائم اجالا رہے

    کہا تب خواصوں نے: حق سے امید

    یہی ہے کہ ہم بھی رہیں رو سفید

    پھریں حکم لے وہاں سے پھر شاہ کا

    بچھونا کیا جا کے اس ماہ کا

    قضارا وہ دن تھا اسی سال کا

    غلط وہم ماضی میں تھا حال کا

    سخن مولوی کا یہ سچ ہے قدیم

    کہ آگے قضا کے، ہو احمق حکیم

    پڑے اپنے اپنے جو سب عیش بیچ

    نہ سوجھی زمانے کی کچھ اونچ نیچ

    یہ جانا کہ یوں ہی رہے گا یہ دور

    زمانے کا سمجھا انہوں نے نہ طور

    کہ اس بے وفا کی نئی ہے ترنگ

    یہ گرگٹ بدلتا ہے ہر دم میں رنگ

    کرا بادۂ عیش درجام ریخت

    کہ صد شام بر فرق صبحش نہ پیخت

    نداری تعجب ز نیرنگ دہر

    کہ آرد زیک حقہ تریاک و زہر

    داستان شاہ زادے کے کوٹھے پر سونے کی اور پری کے اڑا کر لے جانے کی

    شتابی سے اٹھ ساقی بے خبر!

    کہ چاروں طرف ماہ ہے جلوہ گر

    بلوریں گلابی میں دے بھر کے جام

    کہ آیا بلندی پہ ماہ تمام

    جوانی کہاں اور کہاں پھر یہ سن

    مثل ہےکہ ہے چاندنی چار دن

    اگر مے کے دینے میں کچھ دیر ہے

    تو پھر جان یہ تو کہ اندھیر ہے

    وہ سونے کا جو تھا جڑاؤ پلنگ

    کہ سیمیں تنوں کو ہو جس پر امنگ

    کھنچی چادر ایک اس پہ شبنم کی صاف

    کہ ہو چاندنی، جس صفا کی غلاف

    دھرے اس پہ تکیے کئی نرم نرم

    کہ مخمل کو ہو جس کے دیکھے سے شرم

    کہاں تک کوئی اس کی خوبی کو پائے

    جسے دیکھ، آنکھوں کو آرام آئے

    کسے اس پہ کسنے وہ مقیش کے

    کہ جھبوں میں تھے جس کے موتی لگے

    سراسر ادقچے رزی باف کے

    کہ تھے رشک آئینہ صاف کے

    وہ گل تکیے اس کے جو تھے رشک ماہ

    کہ ہر وجہ تھی ان کو خوبی میں راہ

    کہوں اس کے گل تکیوں کا کیا بیاں

    کہ بے وجہ رکھتا نہ تھا گال واں

    کبھی نیند میں جب کہ ہوتا تھا وہ

    تو رخسار رکھ اپنا، سوتا تھا وہ

    چھپائے سے ہوتا نہ، حسن اس کا ماند

    کہے تو، لگائے تھے مکھڑے پہ چاند

    زبس نیند میں تھا جو وہ ہورہا

    بچھونے پہ آتے ہی بس سورہا

    وہ سویا جو اس آن سے بے نظیر

    رہا پاسباں اس کا ماہ منیر

    ہوا اس کے سونے پہ عاشق جو ماہ

    لگا دی ادھر اپنی اس نے نگاہ

    وہ مہ اس کے کوٹھے کا ہالا ہوا

    غرض واں کا عالم دو بالا ہوا

    وہ پھولوں کی خوش بو، وہ ستھرا پلنگ

    جوانی کی نیند اور وہ سونے کا رنگ

    جہاں تک کہ چوکی کے تھے باری دار

    ہوا جو چلی، سو گئے ایک بار

    غرض سب کو واں عالم خواب تھا

    مگر جاگتا ایک مہتاب تھا

    قضارا ہوا اک پری کا گزر

    پڑی شاہ زادے پہ اس کی نظر

    بھبھوکا سا دیکھا جو اس کا بدن

    جلا آتش عشق سے اس کا تن

    ہوئی حسن پر اس کے جی سے نثار

    وہ تخت اپنا لائی ہوا سے اتار

    جو دیکھا، تو عالم عجب ہے یہاں

    منور ہے سارا زمیں آسماں

    دوپٹے کو اس مہ کے منہ سے اٹھا

    دیا گال سے گال اپنا ملا

    ہوئی دونوں کے حسن کی ایک جوت

    کہ جیسے وہ دو چشموں کی ایک سوت

    اگرچہ ہوئی تھی زیادہ ہوس

    و لیکن حیا نے کہا اس کو: بس

    مے عشق میں پھر یہ سوجھی ترنگ

    کہ لے چیے اس کا امانت پلنگ

    محبت کی آئی جو دل پر ہوا

    وہاں سے اسے لے اڑی دل ربا

    ہوا جب زمیں سے وہ شعلہ بلند

    ہوا میں ستارہ سا چمکا دو چند

    شب مہ میں یوں وہ زمیں سے اٹھا

    چلے شہر جس طرح سے جوش کھا

    جلے رشک سے اس کے شمع و چراغ

    کہ اس مہ کا پہنچا فلک پر دماغ

    غرض لے گئی آن کی آن میں

    اڑاکر وہ اس کو پرستان میں

    کبھی خوش ہے دل اور کبھی دردمند

    زمانے کی جب سے ہے پست و بلند

    شتابی مجھے ساقیا! دے شراب

    کہ یہ حال سن کر، ہوا دل کباب

    داستان وہاں سے اس کے غائب ہونے کی اور غم سے

    ماں باپ اور سب کی حالت تباہ کرنے کی

    یہاں کا تو قصہ میں چھوڑا یہاں

    ذرا اب سنو غم زدوں کا بیاں

    کروں حال ہجراں زدوں کا رقم

    کہ گزر جدائی سے کیا ان پہ غم

    کھلی آنکھ جو ایک کی واں کہیں

    تو دیکھا کہ وہ شاہ زادہ نہیں

    نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو

    نہ وہ گل ہے اس جا، نہ وہ اس کی بو

    رہی، دیکھ یہ حال، حیران کار

    کہ یہ کیا ہوا ہاے پروردگار!

    کوئی دیکھ یہ حال، رونے لگی

    کوئی غم سے جی اپنا کھونے لگی

    کوئی بلبلاتی سی پھرنے لگی

    کوئی ضعف ہو ہوکے گرنے لگی

    کوئی سر پہ رکھ ہاتھ، دل گیر ہو

    کوئی بیٹھی ماتم کی تصویر ہو

    کوئی رکھ کے زیر زنخداں چھڑی

    رہی نرگس آسا کھڑی کی کھڑی

    رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب

    کسی نے کہا: گھر ہوا یہ خراب

    کسی نے دیے کھول سنبل سے بال

    تپانچوں سے، جوں گل، کیے سرخ گال

    نہ بن آئی کچھ ان کو اس کے سوا

    کہ کہیے یہ احوال اب شہ سے جا

    سنی شہ نے القصہ جب یہ خبر

    گرا خاک پر، کہہ کے ہائے پسر!

    کلیجا پکڑ ماں تو بس رہ گئی

    کلی کی طرح سے بکس رہ گئی

    ہوا گم وہ یوسف، پڑی یہ جو دھوم

    کیا خادمان محل نے ہجوم

    کہا شہ نے: واں کا مجھے دو پتا

    عزیزو! جہاں سے وہ یوسف گیا

    گئے لے دوشہ کو لب بام پر

    دکھایا کہ سوتا تھا یاں سیم بر

    یہی تھی جگہ وہ جہاں سے گیا

    کہا: ہائے بیٹا، تو یاں سے گیا!

    مرے نوجواں! میں کدھر جاؤں پیر

    نظر تو نے مجھ پر نہ کی بے نظیر!

    عجب بحر غم میں ڈبویا ہمیں

    غرض جان سے تونے کھویا ہمیں

    کروں اس قیامت کا کیا میں بیاں

    ترقی میں ہر دم تھا شور فغاں

    لب بام کثرت جو یکسر ہوئی

    تلے کی زمیں ساری، اوپر ہوئی

    شب آدھی وہ جس طرح سوتے کٹی

    رہی تھی جو باقی، سو روتے کٹی

    عجب طرح کی شب تھی ہیہات وہ!

    قیامت کا دن تھا، نہ تھی رات وہ!

    سحر نے کیا جب گریبان چاک

    اڑانے لگے مل کے سب سر پہ خاک

    اٹھا شہر میں ہر طرف شور و غل

    کہ غائب ہوا اس چمن سے وہ گل

    غم و درد سے دل جو سب کا بھرا

    ہوا باغ سارا وہ ماتم سرا

    گیا جب کہ وہ سر و اس باغ سے

    نظر پھول، آنے لگے داغ سے

    اکڑنا گئے سرو سب اپنا بھول

    اڑانے لگیں قمریاں سر پہ دھول

    صدا اب جو کوئی انہوں کی سنے

    تو کو کو سے ان کی جگر تک بھنے

    ہوئے خشک اور زرد سارے نہال

    ثمر، لگ کے پاتوں، ہوئے پاے مال

    ترانے سے بلبل کا جی ہٹ گیا

    گلوں کا جگر درد سے پھٹ گیا

    تبسم، کلی حزن سے بھول گئی

    پیا غم سے ازبس لہو، پھول گئی

    اڑا نور نرگس کی آنکھوں کا سب

    ہوئے بال سنبل کے، ماتم کی شب

    لب جو کے اڑانے لگی گرد گرد

    گل اشرفی کا ہوا رنگ زرد

    لگی آگ لالہ کے دل کو تمام

    دیا آگ میں پھینک عشرت کا جام

    پڑا ماتم اس باغ میں بس کہ سخت

    ہوئے نخل ماتم تمامی درخت

    گرے غم سے انگور مدہوش ہو

    پرے سایے سارے سیہ پوش ہو

    لگے تھے جو پتے درختوں کے ساتھ

    وہ ہل ہل کے ملتے تھے آپس میں ہاتھ

    وہ لب ریز جو نہر تھی جا بہ جا

    سو آنکھوں کو ہو رہ گئی ڈبڈبا

    اچھلتے تھے فوارے اس کے جو واں

    گئی سب نکل ان کی تاب و تواں

    مثرہ پر جو کچھ اشک تھے، جھڑ گئے

    غرض روتے روتے گڑھے پڑ گئے

    ہو حال چشموں کا یہاں تک تباہ

    کیا رخت پانی نے اپنا سیاہ

    کہاں وے کنویں اور کدھر آبشار

    کوئی دل میں رووے، کوئی ڈاڑھ مار

    نہ بگلوں کا عالم نہ وے قر قرے

    نہ وے آبجوئیں، نہ سبزے ہرے

    جہاں رقص کرتے تھے طاؤس باغ

    لگے بولنے ان منڈیروں پہ زاغ

    سہانی وہ چھائیں، جو دل چسپ تھیں

    سو کیا ہو کہ اب دل لگے واں کہیں

    منقش جہاں تھے وے رنگیں مکاں

    ہوئے سب وہ جوں دیدۂ خوں چکاں

    گلوں کی طرح کھل رہے تھے جو دل

    سووے سب خزاں سے ہوئے مضمحل

    خزاں کا علم واں جو آکر گڑا

    جگر، برگ گل کی طرح جھڑ پڑا

    نہ غنچہ، نہ گل، نے گلستاں رہا

    فقط دل میں اک خار ہجراں رہا

    وزیروں نے دیکھا جو احوال شاہ

    کہ ہوتی ہے اب اس کی حالت تباہ

    کہا سب نے، سمجھا کے اس شاہ کو

    کہ دیکھو گے تم اپنے اس ماہ کو

    اگرچہ جدائی گوارا نہیں

    ولیکن خدائی سے چارا نہیں

    سدا ایک سا دن گزرتا نہیں

    کوئی، ساتھ مرتے کے، مرتا نہیں

    نہیں خوب اتنا تمہیں اضطراب

    نصیبوں سے شاید ملے وہ شتاب

    خدا جانے اب اس میں کیا بھید ہے

    یہ کہتے ہیں: جنیوں کو امید ہے

    ندانم کہ تا کردگار جہاں

    دریں آشکار چہ دارد نہاں

    خدا کی خدائی تو معمور ہے

    غرض، اس کے نزدیک کیا دو رہے!

    نہیں ایک صورت پہ کوئی مدام

    اسی کی، غرض، ذات کو ہے قیام

    یہ کہہ اور شہ کو بٹھا تخت پر

    بہ ہر نوع رہنے لگے یک دگر

    لٹایا بہت باپ نے مال و زر

    و لیکن نہ پائی کچھ اس کی خبر

    ذرا خضر رہ تو ہی ہو ساقیا!

    مجھے دے کے مے، کھوج اس کابتا

    نہ پائی کہیں یاں جو اس گل کی بو

    کروں اب پرستا ن میں جستجو

    داستا پرستان میں لے جانے کی۔

    اڑی جو پری واں سے لے کر اسے

    اتار ا پرستاں کے اندر اسے

    وہاں ایک تھا سیر کا اس کی باغ

    کہ جس کے گلوں سے ہو تازہ دماغ

    ریاچین و گل اس میں انواع کے

    طلسمات کل اس میں انواع کے

    طلسمات کے سارے دیوار و در

    نہ یاں کے سے کوٹھے، نہ یاں کے سے گھر

    مطلّا منقش، مشبک تمام

    یہ کیا ہو جو ہو دھوپ کا اس میں نام

    گرے چھن کے وہاں اس لطافت سے دھوپ

    کہ زردی کا جوں زعفراں پر ہو روپ

    نہ آتش کا خطرہ، نہ باراں کا ڈر

    نہ سردی، نہ گرمی کا اس میں خطر

    جدے اور ملے سب گلوں کے مکاں

    جہاں چاہیے، جا کے رکھ دیں وہاں

    درخشندہ ہر سقف دالان کی

    ہو دیوار جیسی چراغان کی

    زمیں واں کی ساری جواہر نگار

    ادھر میں چمن اور ہوا میں بہار

    کسی کو ہو جس چیز کا اشتیاق

    نظر آوے وہ چیز بالاے طاق

    جواہر کے ذی روح و حش و طیور

    خراماں پھریں صحن میں دور دور

    پھریں دن کو سارے وہ حیوان ہو

    کریں رات کو کام، انسان ہو

    لگے ہر طرف گوہر شب چراغ

    وہی دن کو گوہر، وہی شب، چراغ

    بنائے ہوئے جال باہم نہال

    گل و غنچہ سب واں کے، دور از خیال

    صدا آپ سے آپ گھڑیال کی

    کہیں ناچ کی اور کہیں تال کی

    رہے واں کے حجروں کا جو در کھلا

    تو دنیا کے باجوں کی آوے صدا

    وگر بند کردیجیے ایک بار

    تو جوں ارغنوں راگ نکلیں ہزار

    مکانوں میں مخمل کا فرش و فروش

    بہ خط سلیمانی اس پر نقوش

    طلسمات کے پردے اور چلو نیں

    ارادے پہ دل لے اٹھیں اور گریں

    خواصیں پری زاد اس میں تمام

    پھریں گرد گرد اس پری کے مدام

    سر نہر بنگلا مرصع نگار

    سراپا بہ رنگ گہر آب دار

    رکھا شاہ زادے کا اس میں پلنگ

    کھلا حسن سے اس کے بنگلے کا رنگ

    قضارا، کھلی آنکھ اس گل کی جو

    نہ پائی وہاں شہر کی اپنے بو

    نہ وے لوگ دیکھے، نہ وہ اپنی جا

    تعجب سے ایک ایک کو تک رہا

    اچنبھے کا یہ خواب دیکھا جو واں

    لگا کہنے یارب، میں آیا کہاں!

    زبس تھا وہ لڑکا، تو سہماں بھی کچھ

    ہوا کچھ دلیر اور حیراں بھی کچھ

    سرہانے جو دیکھی مہ چاردہ

    کہ ہے اجنبی سی وہ اک رشک مہ

    کہا: کون ہے تو؟ یہ کس کا ہے گھر؟

    لے آیا مجھے کون گھر سے ادھر

    پھر امنہ کو اور لے ادھر سے نقاب

    دیا اس پری نے یہ ہنس کر جواب

    خدا جانے تو کون ، میں کون ہوں

    مجھے بھی تعجب ہے، میں کیا کہوں!

    پر اب تو تو مہمان ہے میرے گھر

    لے آئی ہے تجھ کو قضا و قدر

    یہ گھر گو کہ میرا ہے، تیرا نہیں

    پر اب گھر یہ تیرا ہے، میرا نہیں

    ترے عشق نے مجھ کو شیدا کیا

    ترا غم مرے دل میں پیدا کیا

    چھڑا کر ترا تجھ سے شہر و دیار

    یہ بندی ہی لائی ہے تقصیر وار

    پری ہوں میں اور یہ پرستان ہے

    یہاں سب یہ قوم بنی جان ہے

    کہاں صورت جن، کہاں شکل انس

    غرض قہر ہے صحبت غیر جنس

    پری کو ہوئی شادی، اس مہ کو غم

    پہ لاچار کیا کرسکے وہ صنم

    کبھی یوں بھی ہے گردش روزگار

    کہ معشوق، عاشق کے ہو اختیار

    بہ جبراً دل اپنا لگایا وہاں

    کہا اس نے جو کچھ، کہا اس کو ہاں

    ولیکن نہ عقل و نہ ہوش و حواس

    رہے وحشیوں کی طرح وہ اداس

    کبھی اشک آنکھوں میں بھر لائے وہ

    کبھی سانس لے کر کہے ہاے، وہ

    وہ محلوں کی چہلیں، وہ گھر کا سماں

    رہے روبہ رو دھیان میں ہر زماں

    وہ شفقت جو ماں باپ کی یاد آئے

    تو راتوں کو رو رو کے دریا بہائے

    کبھی اپنی تنہائی پر غم کرے

    کبھی اپنے اوپر دعا دم کرے

    کرے یاد جب اپنے ناز و نعم

    فغاں زیر لب وہ کرے دم بہ دم

    بہانے سے دن رات سویا کرے

    نہ ہو جب کوئی، تب وہ رویا کرے

    غرض اضطراب اس کو ہر حال میں

    کہ جوں مرغ تڑپھے نیا جال میں

    غرض، ماہ رخ اس پری کاتھا نام

    پدر سے کیا تھا یہ پوشیدہ کام

    کبھی گھر میں رہتی، کبھی رہتی واں

    کہ تا راز اس کا نہ ہووے عیاں

    وہ پریوں میں ازبس کہ تھی ذی شعور

    نئی چیز لاتی تھی اس کے حضور

    عجائب، غرائب پرستان کے

    دکھاتی تھی ہر شب اسے آن کے

    نئے کھانے اور میوے اقسام کے

    مہیا سب اسباب آرام کے

    نئی کشتیاں روز پوشاک کی

    خوشامد سدا جان غم ناک کی

    نئے سانگ واں کے، نئے راگ رنگ

    کہ تا دل لگے اور نہ ہو جی بہ تنگ

    شرابوں کے شیشے چنے طاق میں

    گزک وہ کہ نکلے نہ آفاق میں

    شراب و کباب و بہار و نگار

    جوانی و مستی و بوس و کنار

    نہ تھا اور کچھ غم تو اس کو وہاں

    بغیر از غم دوری دوستاں

    اسی غم سے گھل گھل کے مرتا تھا وہ

    سدا شمع ساں آہ کرتا تھا وہ

    ادھر چار نا چار جھکتا تھا وہ

    ولے غیر جنسی سے رکتا تھا وہ

    پری وہ، جو تھی دل لگائے ہوئے

    وہ بیٹھی تھی اس کو اڑائے ہوئے

    وہ تھی نازنیں بھی بہت عقل مند

    نہ کھلنے سے کچھ اس کے، ہوتی تھی بند

    کہا ایک دن اس نے: سن بے نظیر!

    مرے دام میں تو ہوا ہے اسیر

    تو اک کام کر، اک پہر بھر کہیں

    کیا کر ٹک اک سیر روے زمیں

    تو رک رک کے، دل کو نہ کر اپنے بند

    نہ پہنچے کہیں تیرے جی کو گزند

    سر شام جاتی ہوں میں باپ پاس

    اکیلا تو رہتا ہے اس جا اداس

    یہ گھوڑا میں دیتی ہوں کل کا تجھے

    ولیکن یہ دے تو مچلکا مجھے

    کہ گر شہر کی طرف جاوے کہیں

    ویا دل کسی سے لگاوے کہیں

    تو پھر حال ہو جو گنہ گار کا

    وہی حال ہو تجھ سے دل دار کا

    کہا: کیونکی میں تم کو جاؤں گا بھول

    مجھے، جو کہا تم نے، سو سب قبول

    کہا ماہ رخ نے کہ تھے تیرے بخت

    کہ بخشا تجھے میں سلیماں کا تخت

    جو اترے، تو کل اس کی یوں جوڑیو

    جو برعکس چاہے، توووں موڑیو

    زمیں سے لگا اور تا آسماں

    جہاں چاہیو، جائیو تو وہاں

    داستان گھوڑے کی تعریف میں۔

    کہوں کیا میں اس اسپ کی خوبیاں

    پرندوں میں کب ہوں یہ مجبوریاں

    ذرا کل کے موڑے فلک پر ہوا

    جو کہیے، تو کہیے اسے باد پا

    نہ کھاوے، نہ پیوے، نہ سووے کبھی

    نہ ٹاپے، نہ بیمار ہووے کبھی

    نہ حشری، نہ گمری، نہ شب کور وہ

    نہ وہ کہنہ لنگ اور نہ منہ زور وہ

    نہ ہڈوں کا، نے موتروں کا خلل

    نہ پیشانی اوپر ستارے کا بل

    نہ ساپن، نہ ناگن، نہ بھنوری کا ڈر

    ہر اک عیب سے وہ غرض بے خطر

    یہ گھوڑا جو اس کل کے تھا بخش کا

    ’’فلک سیر‘‘ تھا نام اس رخش کا

    سر شام وہ بے نظیر جہاں

    اسی رخش پر ہو کے جلوہ کناں

    ہر اک طرف سے ہو گزرتا تھا وہ

    وہی اک پہر سیر کرتا تھا وہ

    پہر جب کہ بجتا، تو پھر تا شتاب

    کہ پھر قہر تھا ماہ رخ کا عتاب

    داستان وارد ہونے میں بے نظیر کے بدر منیر کے

    باغ میں اور شاہ زادی کے عاشق ہونے میں

    کدھر ہے تو اے ساقی شوخ رنگ!

    کہ آیا ہوں میں بیٹھے بیٹھے بہ تنگ

    پلا مجھ کو دارو کوئی تیز و تند

    کہ ہوتا چلا ہے مر ذہن کند

    مرے تو سن طبع کو پر لگا

    مجھے یاں سے لے چل فلک پر اڑا

    سنو ایک دن کی یہ تم واردات

    اٹھا سیر کو بے نظیر ایک رات

    ہوا ناگہاں اس کا اک جا گزر

    سہانا سا اک باغ آیا نظر

    سفید ایک دیکھی عمارت بلند

    کہ تھی نور میں چاندنی سے دو چند

    وہ چھٹکی ہوئی چاندنی جا بہ جا

    وہ جاڑے کی آمد، وہ ٹھنڈی ہوا

    وہ نکھرا فلک اور مہ کا ظہور

    لگا شام سے صبح تک وقت نور

    یہ عالم جو بھایا تو کوٹھے پہ آ

    اتر اپنے گھوڑے سے اور سر جھکا

    لگا جھانکنے اس مکاں کے تئیں

    کہ دیکھوں تو یاں کوئی ہے یا نہیں

    جو دیکھے تو ایسا کچھ آیا نظر

    کہ سب کچھ گیا اس کے جی سے اتر

    کہا جی سے: اب تو جو کچھ ہو سو ہو

    ذرا چل کے اس سیر کو دیکھ لو

    یہ کہہ، نیچے اترا دبے پانو وہ

    نظر سے بچائے ہوئے چھانو وہ

    الگ کھول ہاتھوں سے واں کے کواڑ

    چلا سایہ سایہ درختوں کی آڑ

    تھے اک طرف گنجان باہم درخت

    کہ لپٹے ہوں جس طرح مشتاق سخت

    لگا واں سے چھپ چھپ کے کرنے نظر

    درختوں سے جوں ماہ ہو جلوہ گر

    جو دیکھے تو صحبت عجب ہے وہاں

    عجب چاندنی ہے، عجب ہے سماں

    عجب صورتیں اور طرفہ محل

    چلا، دیکھتے ہی، دل اس کا نکل

    ملی جنس کی اس کو جو اپنی بو

    لگا تکنے حیرت سے، حیران ہو

    نظر آئی وہاں چاندنی کی بہار

    کہ آنکھوں نے کی خیرگی اختیار

    در و بام یک لخت سارے سفید

    ہر اک طاق، محراب صبح امید

    مغرق زمیں پر تمامی کا فرش

    جھلک جس کی، لے فرش سے تابہ عرش

    زمیں کا طبق، آسماں کا طبق

    سنہری، رپہری ہوں جیسے ورق

    بلوریں دھرے ہر طرف سنگ فرش

    کہ جس سے منور رہے رنگ فرش

    گئی اس کے عالم پہ جس دم نگاہ

    اور آیا نظر اس کو اک رشک ماہ

    طرح اس کی، ہر دل کی مانوس تھی

    کہ گویا وہ شیشے کی فانوس تھی

    کہیں، دیکھ اس کے تئیں ہوش مند

    پری کو کیا ہے گا شیشے میں بند

    ہر اک سمت واں نور کا ازد حام

    لگے آئنے قد آدم تمام

    لپٹیے ہوئے بادلوں سے درخت

    زمین و ہوا، صاحب تاج و تخت

    ملبب وہ چوپڑ کی پاکیزہ نہر

    پڑے چشمۂ ماہ سے جس میں لہر

    لب بہر پر صاف جو غور کی

    تو پٹری تھی وہ ایک بلور کی

    پڑے اس میں فوارے چھٹتے ہوئے

    ہوا بیچ موتی سے لٹتے ہوئے

    مقرض پڑا اس میں مقیش جو

    گراماہ واں رشک سے پرزے ہو

    لیے گود مقیش چھوٹے بڑے

    سبھی مہ ستارے اڑادیں کھڑے

    غرض اپنی صنعت سے، تاروں کو توڑ

    زمیں کو فلک کا بناتے تھے جوڑ

    ہوا میں وہ جگنو سے چمکیں بہم

    ملیں جلوۂ مہ کو زیر قدم

    فقط چاندنی میں کہاں طور یہ

    کہ طرہ نہ جب تک ملے اور یہ

    زمانہ زر افشاں، ہوا زر فشاں

    زمیں سے لگاتا سما زر فشاں

    گل و غنچہ، نسرین و تاج خروس

    زمین چمن سب جبین عروس

    خراماں زری پوش ہر ماہ وش

    کریں، دیکھ کر مہر و مہ جن کو، غش

    کھڑا ایک نم گیرۂ زر نگار

    کہ تھے جس کی جھالر پہ موتی نثار

    جڑاؤ وہ استادے الماس کے

    ڈھلے ایک سانچے کے، اک راس کے

    کھنچی ڈور ہر طرف زر تار کی

    لڑی جوں کناری کے ہوں ہار کی

    کہوں کیا میں جھالر کی اس کی پھبن

    کہ سورج کے ہو گرد جیسے کرن

    مغرق بچھی مسند اک جگمگی

    کہ تھی چاندنی جس کے قدموں لگی

    نہ پھولے سماتے تھے تکیے دھرے

    کہ تھے وے فقط حسن سے ہی بھرے

    بلوریں صراحی وہ جام بلور

    دل ودیدہ وقف تماشاے نور

    زمیں نور کی، آسماں نور کا

    جدھر دیکھو اودھر سماں نور کا

    چمن سارے داؤدیوں سے بھرے

    جوانان شبو کے ہر جا پرے

    ستاروں کا مہتاب میں حال یوں

    کہ چونے میں پانی کے قطرےہوں جوں

    اگر کیجیے سایے اوپر نگاہ

    تو ہے وہ بھی جوں سایۂ مہر و ماہ

    کرے ہے نگہ جس طرف کو گزر

    بجز نور آتا نہیں کچھ نظر

    کرے کون سے حسن کو انتخاب

    ہر اک آئنے میں وہی ماہتاب

    نظر جس طرف جائے نزدیک و دور

    اسی ایک مہ کا ہے ہر جا ظہور

    نکل اپنی وحدت سے، کثرت میں آ

    وہی نور ہے جلوہ گر جا بہ جا

    نئے رنگ سے ہر طرف ماہتاب

    وہی ایک نکتہ کہ جس کی کتاب

    حقیقت کی لیکن بصارت بھی ہو

    کہ دیکھے نہ، اس کے سوا غیر کو

    داستان بدر منیر کی تعریف میں۔

    گلابی مرے سامنے ساقیا!

    مہ چار دہ کو دکھا کر ہلا

    کہ دیکھے سے ہو جس کے، دل کو سرور

    نظر کام کر جائے نزدیک و دور

    کروں اس مکاں کی مکیں کا بیاں

    کہ ہے بعد خاتم نگیں کا بیاں

    وہ مسند جو تھی موج دریاے حسن

    وہاں دیکھی اک مسند آراے حسن

    برس پندرہ ایک کا سن و سال

    نہایت حسیں اور صاحب جمال

    دیے کہنی تکیے پہ اک ناز سے

    سر نہر بیٹھی تھی انداز سے

    خواصیں کھڑیں ایدھر اودھر تمام

    ستاروں کا جوں ماہ پر ازدحام

    وہ بیٹھی تھی سج دھج بنائے ہوئے

    دل اس چاندنی پر لگائے ہوئے

    ادھر آسماں پر درخشندہ مہ

    ادھر یہ زمیں پر مہ چار دہ

    پڑا عکس دونوں کا جوں نہر میں

    لگا لوٹنے چاند ہر لہر میں

    نظر آئے اتنے جو اک بار چاند

    زمانے کے منہ کو لگے چار چاند

    عجب طرح کا حسن تھا جاں فزا

    کہ مہ رو بہ رو جس کے تھا ٹھیکرا

    کہوں اس کی پوشاک کا کیا بیاں

    فقط ایک پشواز آب رواں

    زبس موتیوں کی تھی سنجاف گل

    کہے تو وہ بیٹھی تھی موتی میں تل

    اور اک اوڑھنی، جوں ہوا یا حباب

    جسے دیکھ، شبنم کو آوے حجاب

    صباحت، صفا اس میں جھلکی ہوئی

    پڑی سر سے کاندھے پہ ڈھلکی ہوئی

    گریباں میں تکملہ اک الماس کا

    ستارہ سا مہتاب کے پاس کا

    وہ کرتی، وہ انگیا جواہر نگار

    نیا باغ اور ابتدا کی بہار

    وہ چھب تختی اور اس کی کرتی کا چاک

    تڑاقے کی انگیا کسی ٹھیک ٹھاک

    جھلک پایجامے کی دامن سے یوں

    نظر آئے آئینے میں برق جوں

    صفائی یہ پوشاک کی دیکھیو

    نظر سوچ میں ہے کہ میلی نہ ہو

    وہ ترکیب اور چاند سا وہ بدن

    وہ بارو پہ ڈھلکے ہوئے نورتن

    جڑاؤ ووبالے کہ ہالے کا رشک

    وہ موتیکے مالے کہ عاشق کا اشک

    وہ آنکھوں کی مستی، وہ مژگاں کی نوک

    کرن پھول کی اور بالے کی جھوک

    وہ موتی کا دلڑا، وہ موتی کا ہار

    سدا اشک غم دیدہ جس پر نثار

    لگا دھکدھکی، پچ لڑا، ست لڑا

    سراسر گلے حسن اس کے پڑا

    جڑاؤ دمکتی وہ چمپا کلی

    رہے جس سے الماس کو بے کلی

    تلے اس کے، موتی لگے گرد گل

    کہ جوں شبنم آلودہ ہو برگ گل

    جہاں گیریوں کا کروں کیا بیاں

    کہ اٹھتا تھا ہاتھوں سے اس کے فغاں

    جواہر سے مینے کی ہیکل جڑی

    کمر اور کولے کے نیچے پڑی

    فقط موتیوں کی پری پائے زیب

    کہ جس کے قدم سے گہر پائے، زیب

    سراپا اگر ہو زباں، میرا تن

    سراپا میں اس کے کروں کیا سخن

    سب اعضا بدن کے موافق، درست

    ہر اک کام میں اپنے چالاک و چست

    جہاں راستی چاہیے، راستی

    کجی جس جگہ چاہیے، واں کجی

    وہ مکھڑا جسے دیکھ، مہ داغ کھائے

    وہ نقشہ، کہ تصویر کو حیرت آئے

    جو کچھ چاہیے، ٹھیک نکھ سکھ سے انگ

    نزاکت بھرا سیوتی کا سا رنگ

    کچھ اک تمکنت اور کچھ اک بانکپن

    غرض ہر طرح میں انوٹھی پھبن

    کرشمہ ادا غمزہ ہر آن میں

    غرض دل بری اس کے فرمان میں

    تغافل، حیا، نازو شوخی، غرور

    ہر اک اپنے موقعے سے وقت ضرور

    تبسم، تکلم، ترحم، ستم

    موافق ہر اک حوصلے کے کرم

    وہ ابرو کہ محراب ایوان حسن

    جھکی شاخ نخل گلستان حسن

    نگہ آفت و چشم عین بلا

    مژہ دے صفوں کی الٹ بر ملا

    درگوش جب اس کا تابندہ ہو

    صدف کا دل صاف شرمندہ ہو

    وہ بینی کہ جس کی نہیں کچھ نظیر

    ہے انگشت قدرت کی سیدھی لکیر

    وہ رخسار نازک کہ ہو جائے لال

    اگر اس پہ بوسے کا گزرے خیال

    نہیں رطب و یا بس کا یاں کچھ حساب

    بیاض گلو سب کی سب انتخاب

    وہ ساعد، وہ بازو بھرے گول گول

    برابر ہو الماس کے جس کا مول

    وہ دست حنا بستہ خوبی کے باب

    شفق میں ہو جوں پنجٔہ آفتاب

    زبس مثل آئینہ تھا اس کا تن

    کہے تو کہ تھی ناف، عکس ذقن

    کمر کو کہوں کیونکے میں اس کی ہیچ

    نہ آوے نظر، تو ہے قسمت کا پیچ

    وہ زانو کہ آ جائے گر اس پہ ہاتھ

    تو پھر عمر بھر ہاتھ، زانو کے ساتھ

    وہ ساق بلوریں، وہ انداز پا

    پھرے ہر سحر چشم و دل میں سدا

    قدوقامت آفت کا ٹکڑا تمام

    قیامت کرے جس کو جھک کر سلام

    وہ اٹھکھیلیاں اور اس کی وہ چال

    کہ دل جس سے عالم کا ہو پایمال

    بنا کبک کیسی ہی گو چال لائے

    کہاں، پر وہ رفتار کو اس کی پائے

    الگ چال اس کی کوئی کیا چلے

    یہ انداز سب اس کے پانوں تلے

    عجب پشت پا، صاف انگشت پا

    کف پا، دکھاوے سر پشت پا

    مغرق جواہر سے اک جفت کفش

    نہ وہ مفت پا، بلکہ پا، مفت کفش

    یہ قدرت کا دیکھا جو اس نے خیال

    کہا شاہ زادے نے: یا ذوالجلال!

    درختوں سے وہ دیکھتا تھا نہاں

    کسی کی نظر جا پڑی ناگہاں

    جو دیکھے تو ہے اک جوان حسیں

    درختوں کی ہے اوٹ ماہ مبیں

    یہ چرچا جو پھیلا تو ظاہر ہوا

    ہر اک حال سے اس کے ماہر ہوا

    یہ سن ایک سے ایک، واں سب کی سب

    بھریں برگ گل کی طرح غنچہ لب

    جو دیکھیں تو شعلہ سا روشن ہے کچھ

    درختوں کا روشن سا آنگن ہے کچھ

    کسی نے کہا: کچھ نہ کچھ ہے بلا

    کسی نے کہا: چاند ہے یاں چھپا

    کسی نے کہا: ہے پری یا کہ جن

    کسی نے کہا: ہے قیامت کا دن

    لگی کہنے، ماتھا کوئی اپنا کوٹ

    ستارہ پڑا ہے فلک پر سے ٹوٹ

    ہوئی صبح، شب کا گیا اٹھ حجاب

    درختوں میں نکلا ہے یہ آفتاب

    کسی نے کہا: دیکھیو اے بوا!

    کھڑا ہے کوئی صاف یہ مردوا

    کسی نے کہا: یہ تو دل دار ہے

    کسی نے کہا: کچھ یہ اسرار ہے

    یہ آپس میں باتیں جو ہونے لگیں

    اشاروں سے گھاتیں جو ہونے لگیں

    گئی بات یہ شاہ زادی کے گوش

    یہ سننے ہی جاتا رہا اس کا ہوش

    کہا: میں تو دیکھوں، یہ کہہ کر اٹھی

    گیا سنسناجی، تو رہ کر اٹھی

    خواصوں کے کاندھے پہ دھر اپنا ہاتھ

    عجب اک ادا سے چلی ساتھ ساتھ

    کچھ اک خوف سے ہول کھاتی ہوئی

    دھڑک اپنے دل کی مٹاتی ہوئی

    کئی ہمد میں، تھیں جو کچھ کچھ پڑھیں

    دعائیں وہ پڑھ پرھ کے آگے بڑھیں

    گئیں جب وے، کر کے دل اپنا کرخت

    وہاں، جس جگہ تھے وے باہم درخت

    لگیں جھانکنے سب کی سب وے شریر

    یکایک نظر واں پڑا بے نظیر

    جو دیکھیں، تو ہے اک جوان حسیں

    کھڑا ہے وہ آئینہ ساں مہ جبیں

    سر کنے کی وہاں سے نہ جاگہ نہ ٹھانو

    دیے حیرت عشق نے گاڑ پانو

    برس پندرہ یا کہ سولہ کا سن

    مرادوں کی راتیں، جوانی کے دن

    نئی پشت لب سے مسوں کی نمود

    بنا آتش لعل شیریں کا دود

    گلے میں پڑا نیمہ شبنم کا ایک

    بدن سے عیاں نور عالم کا ایک

    تمامی کی سنجاف جلوہ کناں

    کہ جوں عکس مہ زیر آب رواں

    طرح دار اک سر پہ پھینٹا سجا

    تمامی کا پٹکا کمر سے بندھا

    عجب پیچ سے پیچ بیٹھے تھے مل

    کہ ہر پیچ پر پیچ کھاتا تھا دل

    جواہر کا تکمہ گلے میں لگا

    ستارہ ہو جوں صبح کا جگمگا

    وہ موتی کا لٹکن، زمرد کی ہر

    لٹک جس کی زیبندہ دستار پر

    کھینچے ابرو اور چشم مست غرور

    بھرے گال چہرے کے خورشید نور

    وہ گورا بدن صاف ترکیب دار

    بھرے ڈنڈ پر نورتن کی بہار

    اک الماس کی ہاتھ انگشتری

    سراسر حنا دست و پا میں لگی

    عیاں چستی و چابکی گات سے

    نمود جوانی ہر اک بات سے

    بدن آئنہ ساں دمکتا ہوا

    گل باغ خوبی لہکتا ہوا

    اکڑ زلف کی اور کاکل کا بل

    جوانی کی شب کا سماں بر محل

    قیافے سے ظاہر سراپا شعور

    جبیں پر برستا شجاعت کا نور

    ولے، عشق کی تیغ کھائے ہوئے

    کھڑا دل کسی پر لگائے ہوئے

    یہ دیکھا جو عالم، تو غش کر گئیں

    وہ جتنی کہ آئیں تھیں، سو مر گئیں

    شتابی سے جاکر کہا واں کا حال

    کہ اے شاہ زادی صاحب جمال!

    عجب سیر ہے سیر مہتاب میں

    یہ عالم تو دیکھا نہیں خواب میں

    کہے سے ہمارے نہ مانوگی تم

    جو دیکھو گی آنکھوں، تو جانو گی تم

    اٹھا پاے گل گوں کو جلدی نگار!

    نہ جاوے کہیں ہاتھ سے یہ بہار

    نہیں اور کچھ، تم نہ کیجو ہراس

    چلی آؤ ٹک ان درختوں کے پاس

    گئی اس جگہ جب یہ بدر منیر

    اور اس نے جودیکھا شہ بے نظیر

    گئے، دیکھتے ہی، سب آپس میں مل

    نظر سے نظر، جی سے جی، دل سے دل

    غرض بے نظیر اور بدر منیر

    گرے دونوں آپس میں ہو کر اسیر

    رہی کچھ نہ تن من کی سدھ بدھ اسے

    نہ کچھ اپنے تن کی رہی سدھ اسے

    تھی ہمراہ ایک اس کے دخت وزیر

    نہایت حسیں اور قیامت شریر

    زبس تھی ستارہ سی وہ دل ربا

    اسے لوگ کہتے تھے نجم النسا

    شتابی سے لا اس نے چھڑکا گلاب

    تب آئی تنوں میں ذرا ان کے تاب

    وہ اٹھتے تو اٹھی، پہ حیران سی

    گل شبنم آلودہ گریان سی

    وہ شہ زادہ ٔدل شدہ تو ٹھٹھک

    وو نہیں رہ گیا نقش پا سا بھچک

    کہ وہ نازنیں کچھ جھجھک، منہ چھپا

    کمر اور چوٹی کا عالم دکھا

    چلی اس کے آگے سے منہ موڑ کر

    وو نہیں نیم بسمل اسے چھوڑ کر

    وہ گدی، وہ شانے، وہ پشت و کمر

    وہ چوٹی کا کولے پہ آنا نظر

    داستان زلف اور چوٹی کی تعریف و صحبت اول کے بیان میں۔

    پلا ساقیا! ساغر مشک بو

    کہ مجھ کو ہے در پیش تعریف مو

    سرشام سے دیے یہاں تک شراب

    کہ مستی میں دیکھوں رخ آفتاب

    کروں اس کے بالوں کا کیا میں بیاں

    نہ دیکھا کسی رات میں یہ سماں

    وہ زلفیں کہ دل جس میں الجھا رہے

    الجھنے سے، جی، جن کے سلجھا رہے

    وہ کنگھی۔ وہ چوٹی کھنچی صاف صاف

    کناری کا پیچھے چمکتا مباف

    کہوں اس کی خوبی کا کیا رنگ ڈھنگ

    کہ جوں آخری شب ہو جھمکے کا رنگ

    نمایاں تھی یوں اوڑھنی سے جھلک

    کہ جوں ابر میں برق کی ہو چمک

    مباف زری نے کیا ہے غضب

    دیا ہے گرہ دن کو دنبال شب

    سنگاروں میں گو سب سے ہے وہ اتار

    پہ کہتے ہیں چوٹی کا اس کو سنگار

    نہ ہو کیونکے چوٹی کا رتبہ بڑا

    کہ اک نور ہے اس کے پیچھے پڑا

    گل و سنبل اس پر سے قربان ہے

    کہ اس کی لٹک میں عجب آن ہے

    لڑی تھی زبس سحر سے اس کی سانٹھ

    شب و روز کو دے رکھا اس نے گانٹھ

    ولے ہاتھ آنا ہے اس کا کٹھن

    کہ ہے فی الحقیقت وہ کالے کا من

    الٹ کر نہ دیکھے اسے ہوشیار

    کہ وہ اک ستارہ ہے دنبالہ دار

    کہوں اس کے عالم کا کیا ماجرا

    کہ جوں ہووے دریا پہ کالی گھٹا

    بھری تھی دلوں سے زبس اس کی مانگ

    بہت دل لیے اس سےکنگھی نے مانگ

    دل عاشق اس پر سے قربان ہے

    کہ مشاطہ کا سر پر احسان ہے

    کشاکش میں تھا ورنہ جینا تو ہیچ

    بھلے کو رکھا اس نے ڈھیلا ہی پیچ

    غرض حسن کا اس کے ہے سب یہ بھید

    جو چاہے کرے وہ سیاہ و سفید

    کیا قتل کو اس نے دل کو تو کیا

    شفق کا نہیں شام پر خوں بہا

    کہاں تک کہوں اس کی چوٹی کی بات

    کہ تھوڑا ہے سانگ اور بڑی ہے یہ رات

    دیا شعر کو گرچہ ہر بار طول

    و لیکن یہ ہو عرض میری قبول

    بہت موشگافی جو کی میں نے یاں

    گھٹانے کی جاگہ نہ تھی درمیاں

    تس اوپر جو پوری نہ بیٹھی مثال

    ہوئی ہے مری فکر مجھ پر وبال

    اب اس پیچ سے باہر آتا ہوں میں

    سماں ایک تازہ سناتا ہوں میں

    غرض وہ مڑی جب دکھا اپنے بال

    تو گویا کہ مارا محبت کا جال

    ادائیں سب اپنی دکھاتی چلی

    چھپا منہ کو اور مسکراتی چلی

    غضب منہ پہ ظاہر، ولے دل میں چاہ

    نہاں آہ آہ اور عیاں واہ واہ

    یہ ہے کون کم بخت آیا جو یہاں

    میں اب چھوڑ گھر اپنا، جاؤں کہاں!

    یہ کہتی ہوئی آن کی آن میں

    چھپی جا کے اپنے وہ دالان میں

    دیا ہاتھ سے چھوڑ پردہ شتاب

    چھپا ابر تاریک میں آفتاب

    کہ اتنے میں آئی وہ دخت وزیر

    فسوں پڑھ کے بولی کہ بدر منیر!

    مجھے چوچلے تو خوش آتے نہیں

    ترے ناز بے جایے بھاتے نہیں

    مری طرف ٹک دیکھ تو ہائے ہائے

    مثل ہے کہ من بھائے، منڈیا بلائے

    کیا ہے اگر تو نے گھائل اسے

    تو مت چھوڑ اب نیم بسمل اسے

    ٹک اک حظ اٹھا زندگانی کا تو

    مزہ دیکھ اپنی جوانی کا تو

    مے عیش کا جام اب نوش کر

    غم دین و دنیا فراموش کر

    یہ حسن و جوانی، یہ جوش و خروش

    غفور است ایزد، تو ساغر بنوش

    کہاں یہ جوانی، کہاں یہ بہار

    یہ جو بن کا عالم بھی ہے یاد گار

    سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

    گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

    سبھی یوں تو دنیا کے ہیں کاروبار

    ولے حاصل عمر ہے وصل یار

    خوشا وہ زمانہ کہ دو، اک جگہ

    کریں یک دگر جلوۂ مہر و مہ

    کہاں چاہ والے ہیں یوسف عزیز

    اری باولی! چاہ میں کر تمیز

    ترے گھر میں آیا ہے مہماں غریب

    یہ ہے واردات عجیب و غریب

    شتابی سے مجلس کو تیار کر

    تو اس گل سے گھر رشک گلزار کر

    بلا ساقیان گل اندام کو

    نگہ ساتھ گردش میں لا جام کو

    شب و روز پی مل کے جام شراب

    مہ و مہر کو رشک سے کر کباب

    یہ سن سن کے وہ نازنیں مسکرا

    لگی کہنے: اچھا، بھلاری بھلا!

    میں سمجھی، تراجی گیا ہے ادھر

    بہانے تو کرتی ہے کیوں مجھ پہ دھر

    لگی کہنے ہنس ہنس کے وہ ماہ وش

    ہوئی تھی اسے دیکھ میں ہی تو غش!

    مجھی پر تو چھڑکا تھا تم نے گلاب!

    بھلا میری خاطر بلاؤ شتاب

    یہ آپس میں رمزوں کی باتیں ہوئیں

    اشاروں کی باہم جو گھاتیں ہوئیں

    بلا لائی جا اس جواں کے تئیں

    کیا میزباں، میہماں کے تئیں

    بلا اک مکاں میں بٹھایا اسے

    محل کا سماں سب دکھایا اسے

    پھر اس نازنیں کا پکڑ اس نے ہاتھ

    بٹھایا ہی لا آخر اس گل کے ساتھ

    پلا ساقیا! مجھ کو صہباے عیش

    ملی ہے نصیبوں سے یاں جاے عیش

    بہم مل کے بیٹھے ہیں دو رشک مہ

    قران مہ و مہر ہے اس جگہ

    ہر اک برج، رشک گلستاں ہے آج

    بہار وصال غریباں ہے آج

    بہ زور اس کو لاکر بٹھایا جو واں

    نہ پوچھ اس گھڑی کی ادا کا بیاں

    وہ بیٹھی عجب ایک انداز سے

    بدن کو چرائے ہوئے ناز سے

    منہ آنچل سے اپنا چھپائے ہوئے

    لجائے ہوئے، شرم کھائے ہوئے

    پسینا پسینا ہوا سب بدن

    کہ جوں شبنم آلودہ ہو یاسمن

    گھڑی دو تلک وہ مہ و آفتاب

    رہے شرم سے پاے بند حجاب

    انہوں کے رکے بیٹھنے سے، خفا

    ہوئی دل میں اپنے وہ نجم النسا

    گلابی کو لا اس کے آگے دھرا

    پیالے کو پھر جلد اس نے بھرا

    کہا شاہ زادی کو: بیٹھی ہے کیا

    یہ پیالہ تو اس بت کے منہ سے لگا

    ذرا میری خاطر ہنس سے بول تو

    لب لعل شیریں کو ٹک کھول تو

    میں صدقے ترے، تجھ کو میری قسم

    کئی ساغر اس کو پلا دم بہ دم

    یہ دیکھ اس کی منت، پیالہ اٹھا

    ادھر سے پھرا منہ کو اور مسکرا

    کہا: بادہ نوشی سے ہو جس کو ذوق

    پیے وہ پیالہ، نہیں اس کا شوق

    کہا شاہ زادے نے ہنس کر کے یوں

    پیوں میں کسی کے نہورے سے کیوں

    غرض ہو کے آپس میں راز و نیاز

    پیے دو پیالے بہ صد امتیاز

    پھر آخر کو شہ زادے نے بھی اٹھا

    دیا ساغر اس مہ کے منہ سے لگا

    جب آپس میں چلنے لگے جام مل

    مندے غنچہ ساں دل، کھلے مثل گل

    ہوئی یک دگر پھر تو تفتیش حال

    لگے ہونے آپس میں قال و مقال

    کھلا، بند جس دم در گفتگو

    جواں نے حقیقت کہی مو بہ مو

    کہ ابتدا سے جو گزری تھی سب

    بتایا سب اپنا حسب اور نسب

    پری کا بھی احوال ظاہر کیا

    چھپے راز سے اس کو ماہر کیا

    کہا: اک پہر کی ہے رخصت مجھے

    زیادہ نہیں اس سے فرصت مجھے

    یہ سن، دل ہی دل بیچ کھا پیچ تاب

    دیا شاہ زادی نے اس کو جواب

    مرو تم پری پر، وہ تم پر مرے

    بس اب تم ذرا مجھ سے بیٹھو پرے

    میں اس طرح کا دل لگاتی نہیں

    یہ شرکت تو بندی کو بھاتی نہیں

    میں سمجھی ہوں تم کو، بہت دور ہو

    چلو اب کہیں یاں سے کافور ہو

    عبث تم سے کیوں دل لگاوے کوئی

    بھلے چنگے دل کو جلاوے کوئی

    بہے شمع ساں کیوں کوئی اشک سے

    جلے کس لیے آتش رشک سے

    یہ سن، پانو پر گر پڑا بے نظیر

    کہا: کیا کروں آہ بدر منیر!

    کوئی لاکھ جی سے ہومجھ پر فدا

    میں تجھ پر فدا ہوں، مجھے اس سے کیا

    کہا چل، سر اپنا قدم پر نہ دھر

    کسی کے مجھے دل کی کیا ہے خبر!

    یے زمزہ کنایے جو ہونے لگے

    تو آپس میں ہنس ہنس کے رونے لگے

    رہی دل ہی میں آخرش دل کی بات

    پہر بھر گئی اتنے عرصے میں رات

    خبر رات کی سن، اٹھا بے نظیر

    کہا: اب میں جاتا ہوں بدر منیر!

    اگر قید سے چھوٹنے پاؤں گا

    تو پھر آج کے وقت کل آؤں گا

    یہ مت سمجھیو، ہوں میں آرام میں

    کروں کیا، پھنسا ہوں عجب دام میں

    دل اس جا سے اٹھنے کو کرتا نہیں

    کوئی آپ سے جان مرتا نہیں

    کرم مجھ پہ رکھیو ذرا میری جاں

    میں دل چھوڑے جاتا ہوں اپنا یہاں

    یہ کہ، اس طرف وہ روانہ ہوا

    دل اس طرف اس کا دوانہ ہوا

    گیا اپنے معمول سے بے نظیر

    ادھر کا ہوا قیدی اودھر اسیر

    پری ساتھ کاٹی وہ جوں توں کے رات

    اٹھا صبح، ملتا ہوا اپنے ہاتھ

    سماں شب کا آنکھوں میں چھایا ہوا

    مزہ دل میں سارا سمایا ہوا

    اٹھے جو کوئی وصل کا دیکھ خواب

    نہ ہو وصل اور دل کو ہو اضطراب

    نئی بات کا لطف پانا غضب

    وہ پہلے پہل دل لگانا غضب

    قلق دل پہ، یعنے کٹے روز کب

    ملے مجھ سے شمع شب افروز کب

    محبت میں زلف سیہ فام کی

    لگا دیکھنے راہ پھر شام کی

    وہ سن ہجر کا، روز شامت ہوا

    اسے کاٹنا دن، قیامت ہوا

    ادھر کا تو احوال تھا اس طرح

    کہا میں نے، کر مختصر، جس طرح

    ولے اب سنو تم ادھر کا بیاں

    ہوا طرف ثانی پہ کیا حال وہاں

    وہ شب اس کو اندوہ و غم میں کٹی

    گھڑی جو کٹی، سو الم میں کٹی

    رہی صورت آنکھوں میں جو یار کی

    ہوئی، یاد میں صبح، رخسار کی

    کچھ امید دل میں، کچھ اک جی کو یاس

    لبوں پر ہنسی، لیک چہرہ اداس

    لگا اس کو باتوں میں نجم النسا

    لگی کہنے: جی چاہتا ہے مرا

    کہ تو آج کر خوب اپنا سنگار

    مجھے حسن کی اپنے دکھلا بہار

    لگی کہنے: چل ری دوانی نہ ہو

    کوئی چیز اپنی، بگانی نہ ہو

    کروں کس کی خاطر میں اپنا سنگار

    وہ ہے کون جس کو دکھاؤں بہار

    غرض شاہ زادی بہت دور تھی

    یہ شکل اس کو پہلے ہی منظور تھی

    نہا دھو کے اس روز ایسی بنی

    کہ دو دن کی سچ مچ ہو جیسی بنی

    وہ مکھڑے کا عالم، وہ کنگھی کا رنگ

    شب ماہ ہو دیکھ کر جس کو دنگ

    وہ مسی اور اس کے لب لعل فام

    سواد دیار بدخشاں کی شام

    وہ آنکھوں کا عالم، وہ کاجل غضب

    کہے تو پڑی نرگسستاں میں شب

    ستم تس پہ سرمے کی تحریر سی

    کھنچی ہاتھ کافر کے شمشیر سی

    لکھوٹا وہ پانوں کا مسی کے ساتھ

    کہ جوں دامن شب شفق کے ہو ہاتھ

    وہ پشواز اک ڈانک کی جگ مگی

    ستاروں کی تھی آنکھ جس پر لگی

    اور اک اوڑھنی، جالی مقیش کی

    پڑی چاندنی سی مہ عیش کی

    جو دیکھے وہ انگیا جواہر نگار

    فرشتہ ملے ہاتھ بے اختیار

    وہ باریک کرتی مثال ہوا

    عیاں موبہ مو جس سے تن کی صفا

    ڈھلک سرخ نیفے کی ابھری ہوئی

    گلابی سی گرد ایک تہ دی ہوئی

    جھلک پایجامے کی دامن سے یوں

    کہ روشن ہو فانوس میں شمع جوں

    مغرق زری کا وہ شلوار بند

    ثریا سے تابندگی میں دو چند

    پڑی پانو میں کفش زریں نگار

    ستاروں کی جس کے زمیں پر بہار

    لگا پا سے وہ نازنیں تابہ فرق

    سراپا جواہر کے دریا میں غرق

    گٹھی ہوئی وہ ترکیب اور وہ بدن

    وہ پوشاک و زیور کی اس پر پھبن

    وہ چھب تختی اس کی نزاکت نژاد

    چمن زار قدرت کا نخل مراد

    بھری مانگ موتی سے جلوہ کناں

    نمایاں شب تیرہ میں کہکشاں

    وہ ماتھے پہ بینے کی اس کے جھلک

    سحر چاند تاروں کی جیسے چمک

    ہوس ہو نہ، دیکھ اس کے زیور کو پھر

    کہے تو کہ ٹپکا تھا سب اس کے سر

    وہ بالے کی تابندگی زیر گوش

    جسے دیکھ، اڑ جائیں بجلی کے ہوش

    وہ ہیرے کا تکمہ بہ صد آب و تاب

    وہ صبح گلو، مطلع آفتاب

    وہ تکمے پہ چمپا کلی کی پھبن

    کہ سورج کے آگے ہو جیسے کرن

    وہ چھاتی پہ الماس کی دھکدھکی

    رہے آنکھ سورج کی جس پر جھکی

    وہ موتی کے مالے لٹکتے ہوئے

    رہیں دل جہاں سر پٹکتے ہوئے

    وہ الماس کی ہیکل اک خوش نما

    تصور رہے جس کا دل سے لگا

    وہ بھج بند بازو کے اور نورتن

    کہ جوں گل سے ہو شاخ زیب چمن

    وہ پہنچی زمرد کی اور دست بند

    نزاکت میں تھی شاخ گل سے دو چند

    وہ لعلوں کی پازیب آویزہ دار

    سدا اشک خونی ہو جس پر نثار

    وہ مینے کے پانوں میں چھلے تھے گل

    کہ آنکھوں سے دل ان پہ کھاتے تھے گل

    وہ بالوں کی بو رشک مشک ختن

    وہ ڈوبا ہوا عطر میں تن بدن

    زمیں سے معطر ہوا تا فلک

    زمانہ گیا اس کی بو سے مہک

    کیا اس طرح کا جب اس نے سنگار

    ہوئے مہر و مہ اس کے منہ پر نثار

    فلک تک گئی حسن کی اس کے دھوم

    لیا ہاتھ مشاطہ نے اپنا چوم

    خواصوں نے گھر کو دیا انتظام

    تمامی کے پردے لگائے تمام

    بچھا فرش اور کر چھپر کھٹ کو صاف

    مرصع کا اس پر اڑھا کر غلاف

    وہ نرگس کے دستے، جو آفاق میں

    نہ نکلیں، سولا کر چنے طاق میں

    ولایت کے میوے دھرے ہر طرف

    کہ لے جاوے بو ان کی گل پر شرف

    دھرے لخلخے جو اس ایوان میں

    ہوا، ہو گئی عطر، دالان میں

    دھریں اک طرف کیاریاں بے شمار

    چنی اک طرف ڈالیوں کی قطار

    اچار و مربے دھرے خوش نما

    وہ باہر کے دالان میں جا بہ جا

    چھپرکھٹ کے پاس ایک مسند بچھا

    اور اس پر تمامی کے تکیے لگا

    چنگیریں بنا اور رکھ پان دان

    قرینے سے اس میں رکھے ہار، پان

    مرصع کے تھے عطرداں کئی دھرے

    انوٹھی گھڑت کے کئی چو گھرے

    سرہانے مجلد دھری اک کتاب

    ظہوریؔ ، نظیریؔ کا کل انتخاب

    قلم دان بھی اک نزاکت بھرا

    قرینے سے زیر چھپرکھٹ دھرا

    دھری اک بیاض اور رشک چمن

    پر از شعر سوداؔ و میرؔ و حسنؔ

    دھرا اک طرف گنجفہ خوش قماش

    دھری چوپڑ اک طرف کو غم تراش

    بچھی ایک چوکی، پڑا تورہ پوش

    کریں، دیکھ کر غش، جسے بادہ نوش

    صراحی و ساغر، شراب و کباب

    دھرا اس پہ ساقی نے، کر انتخاب

    ولے، اس کو رکھا چھپائے ہوئے

    کہ چھپتے نہیں منہ لگائے ہوئے

    کہا خاصہ پڑ کو خبردار کر

    کہ رکھیو تو خاصے کو تیار کر

    یہ سب کچھ ہوا جب کہ آراستہ

    خراماں ہوئی سرو نو خاستہ

    سرشام، لے ہاتھ میں اک چھڑی

    ولیکن چھڑی وہ کہ جگنوں جڑی

    روش پر لگی پھر نے ایدھر ادھر

    کہ چھپ جائے سورج اسے دیکھ کر

    داستان دوبارہ بے نظیر کے آنے اور باہم بے تکلف ملاقات کرنے کی۔

    پلا مجھ کو ساقی! شراب وصال

    کہ اب ہجر سے تنگ ہے میرا حال

    تڑپھتا تھا اودھر جو وہ بے نظیر

    ہوئی شام بارے، تو چھوٹا اسیر

    پر اس نے بھی اتنا تکلف کیا

    کہ اک دن میں جوڑے کو دھانی رنگا

    تمامی کی سنجاف کر کے درست

    بنا جلد جلد اور پہن تنگ و چست

    پہن لعل و یاقوت کے نورتن

    وہ گل اس طرح ہو کے رشک چمن

    فلک سیر پر ہو شتابی سوار

    ہوا آسماں پر ہوا ایک بار

    یکایک جو وارد ہوا اس جگہ

    کہ جس جا خراماں تھی وہ رشک مہ

    نظر نازنیں کی جو اس پر پڑی

    ہوئی جا درختوں کے اوجھل کھڑی

    کیا چھپ کے عالم پہ اس کے جو دھیان

    تو دیکھا عجب رنگ سے وہ جوان

    کہ دھانی ہے جوڑا گلے میں پڑا

    چھپا سبزے میں چاند سا ہے کھڑا

    کہے تو کہ شب، چاند نے آن کے

    نکالا تھا منہ کھیت سے دھان کے

    وہ حسن اور پوشاک اور وہ شباب

    زمرد میں جوں جلوۂ آفتاب

    سماں دیکھ اس شعلۂ سبز کا

    ہوئی اور جلنے کی اس کو ہوا

    خواصیں جو تھیں، دم بہ خود جان کر

    کہا ایک ہم راز نے آن کر

    کہ اب کس طرف ان کو لے جائیے

    جہاں حکم ہو، جا کے بٹھلائیے

    کہا: وہ جو آراستہ ہے مکاں

    ادھر سے، تو ووں ہو کے، لے جاوہاں

    کہے کے بہ موجب اڑھا کر نقاب

    چھپا اس کو، لاکر بٹھایا شتاب

    وہ بیٹھا جو خلوت میں آ بے نظیر

    اور ایدھر سے آئی جو بدر منیر

    اسے دیکھ، اس نے تو پھر غش کیا

    لباس اور زیور سے اش اش کیا

    زبس حوصلے نے جو تنگی سی کی

    حیا، عشق نے خانہ جنگی سی کی

    پکڑ ہاتھ مسند پہ کھینچا اسے

    محبت کے رشتے میں اینچا اسے

    لگی کہنے: ہے ہے، مر چھوڑ ہاتھ

    یہ گرمی ہے جس سے، رہے اس کے ساتھ

    کہا: ہاے پیاری! جلایا مجھے

    رکھائی نے تیری ستایا مجھے

    اری ظالم! اک دم تو تو بیٹھ جا

    ذرا میرے پہلو سے تکیہ لگا

    تڑپھتا ہے کب سے پڑا میرا دل

    ذرا کھول آغوش اور مجھ سے مل

    غرض آخرش بعد راز و نیاز

    وہ مسند پہ بیٹھی بہ صد امتیاز

    ہوا پھر جو صہباے گل گوں کا دور

    ہوا اور ہی اور کچھ واں کا طور

    ہوئے جب وے بدمست دو ماہ رو

    لگی ہونے ان میں عجب گفتگو

    کہ دستے جو نرگس کے تھے وہاں ہزار

    لگے ڈھانپنے آنکھ بے اختیار

    خواصیں جو تھیں روبہ رو ہٹ گئیں

    بہانے سے ہر کام کے بٹ گئیں

    غرض رفتہ رفتہ وہ مدہوش ہو

    چھپرکھٹ میں لیٹے ہم آغوش ہو

    لیا کھینچ انہوں نے جو پردہ شتاب

    چھپے ایک ہو، دو مہ و آفتاب

    لگی ہونے بے پردہ جو چھیڑ چھاڑ

    درحسن کے کھل گئے دو کواڑ

    لگے پینے باہم شراب وصال

    ہوئے نخل امید سے وہ نہال

    لبوں سے ملے لب، دہن سے دہن

    دلوں سے ملے دل، بدن سے بدن

    ملی آنکھ سے آنکھ خوش حال ہو

    گئیں حسرتیں دل کی پامال ہو

    لگی جا کے چھاتی جو چھاتی کے ساتھ

    چلے ناز و غمزے کے آپس میں ہاتھ

    کسی کی گئی چولی آگے سے چل

    کسی کی گئی چین ساری نکل

    غم و درد دامن کشیدہ ہوئے

    وہ گل نارسیدہ رسیدہ ہوئے

    اٹھے، پی کے باہم شراب امید

    کوئی سرخ رو اور کوئی رو سفید

    چھپر کھٹ سے باہر رکھ اپنے قدم

    نکل آئے، بھرتے محبت کا دم

    نشے سے وہ لذت کے بے ہوش ہو

    گئے بیٹھ مسند پہ خاموش ہو

    عرق میں ادھر غرق وہ مہ جبیں

    کیے نیچی آنکھیں ادھر نازنیں

    یے بیٹھے تھے خوش ہو کے باہم ادھر

    کہ اتنے نیں اودھر سے باجا پہر

    پہر کے وہ بجتے اٹھا بے نظیر

    ہوئی غم کی تصویر بد منیر

    نہ بولی، نہ کی بات، نے کچھ کہا

    نہ دیکھا ادھر آنکھ اپنی اٹھا

    کہا: مجھ سے پیاری! نہ بیزار ہو

    پھر آؤں گا، بولی کہ مختار ہو

    خفا ہونے سے اس کے، وہ نوجواں

    گیا تو، ولے منہ پر آنسو رواں

    ہوئے دل جو دونوں کے آپس میں بند

    لگے ہجر سے جی پر آنے گزند

    بندھا پھر تو معمول اس کامدام

    کہ ہر روز آنا ادھر اس کو شام

    پہر رات تک ہنسنا اور بولنا

    در عشق اور حسن کو کھولنا

    کبھی ہجر سے، ان کو ہونا ملول

    کبھی وصل سے، بیٹھنا پھول پھول

    داستان پری کے دریافت کرنے کی۔

    پلا جلد ساقی! مجھے بھر کے جام

    کہ ہے چرخ بھی درپے انتقام

    یہ دو دل کو اک جا بٹھاتا نہیں

    کسی کا، اسے وصل، بھاتا نہیں

    یہ ہے دشمن وصل و دل سوز ہجر

    کرے ہے شب وصل کو، روز ہجر

    جدائی انہوں کی خوش آئی اسے

    یہ اتنی بھی صحبت نہ بھائی اسے

    کسی دیو نے دی پری کو خبر

    کہ معشوق، عاشق ہوا اور پر

    یہ سن کر وہ شعلہ، بھبھوکا ہوئی

    لگی کہنے: ایں، یہ بلا کیا ہوئی!

    قسم مجھ کو حضرت سلیمان کی

    ہوئی دشمن اب اس کی میں جان کی

    کہا دیو سے: دے مجھے تو بتا

    کہا: وہ کسی باغ میں تھا کھڑا

    کوی نازنیں سی تھی ایک اس کے ساتھ

    کھڑی تھی دیے ہاتھ میں اس کے ہاتھ

    قضارا، اڑا میں جو ہو کر ادھر

    وو دونوں مجھے وہاں پڑے تھے نظر

    یہ اڑتی سی اس کی خبر سن پری

    کہا: دیکھنے پاؤں اس کو ذری

    تو کھا جاؤں کچا اسے موت ہو

    لگی ہے مری اب تو وہ سوت ہو

    وہ آوے تو آگے مرے نابکار

    گریباں کو اس کے کروں تار تار

    یہی قول و اقرار تھا میرے ساتھ

    بھلا دامن اس کا ہے اور میرا ہاتھ

    ہمارے بزرگوں نے سچ ہے کہا

    کہ ہیں آدمی زاد گل بے وفا

    غضب ناک بیٹھی تھی یہ تو ادھر

    کہ اتنے میں آیا وہ رشک قمر

    اسے دیکھ غصے میں، وہ ڈر گیا

    کہے تو کہ جیتے ہی جی مر گیا

    بلاسی، وہ دیکھ، اس کے پیچھے لگی

    کہا: سن تو اے موذی و مدعی!

    تجھے سیر کو میں نے گھوڑا دیا

    کہ اس مال زادی کو جوڑا دیا

    الگ ہم سے یوں رہنا اور چھوٹنا

    یہ اوپر ہی اوپر مزے لوٹنا

    مچلگا دیا تھا نا تو نے یہی!

    بھلا اس کا بدلا نہ لوں تو سہی

    پھرا جیسے راتوں کو دل شاد تو

    کرے گا دنوں کو بہت یاد تو

    مزہ چاہ کا دیکھ اپنی ذرا

    جھکاتی ہوں کیسے کنویں، رہ بھلا

    تجھے جی سے ماروں تو کیا اے غریب!

    ولے چاہتے تھے یہ تیرے نصیب

    کہ چاہ الم میں پھنساؤں تجھے

    ہنسا ہے تو جیسا، رلاؤں تجھے

    یہ کہہ اور بلا اک پری زاد کو

    کہا: سنیو اس کی نہ فریاد کو

    اسے کھینچتا یاں سے لے جا شتاب

    وہ صحرا، جو ہے درد و محنت کا باب

    کنواں اس میں جو ہے مصیبت بھرا

    کئی من کا پتھر ہے اس پر دھرا

    اسے، جا کے اس چاہ میں بند کر

    وہی سنگ پھر اس کے منہ پر تو دھر

    سر شام کھانا کھلانا اسے

    اور اک جام پانی پلانا اسے

    نہ دیجو سوا اس کے، جو کچھ کہے

    یہی اس کا معمول دائم رہے

    گری اس پہ جو آسمانی بلا

    دل اس نازنیں کا ہوا ہو چلا

    یہ سن، دیو اس گل کے نزدیک آ

    پکڑ ہاتھ اس کا فلک پر اڑا

    ہوا یوں جو اس بخت واژوں کا اوج

    چلی آہ و نالے کی ساتھ اس کے فوج

    کہا: دل! یہ رتبہ جو کچھ آج ہے

    یہی عشق کی جان معراج ہے

    کیا بند پھر جا کے اس چاہ میں

    کنواں وہ جو تھا قاف کی راہ میں

    وہ یوسف کنویں میں ہوا جب کہ بند

    ہوا اس سے پستی کا رتبہ بلند

    کھلے اس کنویں کے یکا یک نصیب

    کہ آیا وہ اس میں مہ دل فریب

    منور وہ گھر اس کا سارا ہوا

    کنویں کی وہ پتلی کا تارا ہوا

    اندھیرا پڑا تھا، سو روشن ہوا

    شب تیرہ میں سانپ کا من ہوا

    ولے پانو جب اس کا تہہ پر گیا

    کنواں اس کے اندوہ سے بھر گیا

    زمیں میں سمایا تحیر سے آب

    گئے سوکھ آنسو کنویں کے شتاب

    ہوا واں سے اوپر گئی کانپ کانپ

    کنویں نے لیا سنگ سے من کو ڈھانپ

    دل اس نازنیں کا دھڑکنے لگا

    جگر ٹکڑے ہو کر پھڑکنے لگا

    اندھیرے اجالے نہ نکلا تھا جو

    ہوا قید آ اس اندھیرے میں سو

    اندھیرے نے اس کا کیا دم خفا

    کہ جوں لے سیاہی کسی کو دبا

    نکلنے کی سوجھی نہ واں اس کو راہ

    ہوا اس کی آنکھوں میں عالم سیاہ

    فغاں کی بہت اور پکارا بہت

    سر اپنے کو ہر طرف مارا بہت

    پکارا وہ جس تس کو فریاد کر

    نہ پہنچا کوئی کارواں بھی ادھر

    نہ مونس نہ غم خوار اس کا کوئی

    نہ تھا جز خدا یار اس کا کوئی

    وہی چاہ تاریک اس کا رفیق

    وہی سنگ سر پر بجاے شفیق

    ہوا بھی نہ واں، جس سے کچھ دھیان ہو

    کنویں کی سنے کون آواز کو

    کنواں ہی مدام اس کا ہم دم رہے

    جو اس سے سنے، ووہی اس سے کہے

    کنواں اس کو پوچھے، وہ پوچھے اسے

    اندھیرے سوا کچھ نہ سوجھے اسے

    سیاہی میں، جیسے وہ کافر کا دل

    صعوبت میں اس سے جہنم خجل

    نہ شب کی سیاہی، نہ واں دن کا نور

    سدا ظلمت غم کا اس جا ظہور

    غم و درد الفت کو کھا کھا جیے

    لہو پانی اپنا کنویں میں پیے

    اس اندھیر کو کیا لکھوں اب میں آہ!

    قلم کے نکلتے ہیں آنسو سیاہ

    نہ تھا وہ کنواں، تھا ستون الم

    نشان شب آفت وہ درد و غم

    کروں مختصر یہاں سے اس غم کی بات

    لگا رہنے اس میں وہ آب حیات

    نہیں مخلصی سوجھتی اب اسے

    نکالے خدا دیکھیے کب اسے

    پھنسا اس طرح سے جو وہ بے نظیر

    پڑی بے قراری میں بدر منیر

    بہم دو دلوں میں جو ہوتی ہے چاہ

    تو ہوتی ہے دل کے تئیں دل سے راہ

    قلق وہاں جو گزرا، تو یہاں غم ہوا

    رکا جی وہاں، یاں خفا دم ہوا

    کئی دن جو آیا نہ وہ رشک ماہ

    نظر میں ہوا اس کی عالم سیاہ

    لگی کہنے نجم النسا سے: بوا!

    خدا جانے اس شخص پر کیا ہوا!

    کہا اس نے: بی! تم کو سودا ہے کچھ

    وہ معشوق ہے، اس کو پروا ہے کچھ

    خدا جانے کس شغل میں لگ گیا

    مری چڑ ہے، اتنا بھی ہونا فدا

    وہ رہ رہ کے تم کو دلاتا ہے چاہ

    عبث آپ کو تم کرو مت تباہ

    رکے جو کوئی، اس سے رک جائیے

    جھکے آپ سے وہ، تو جھک جائیے

    تفول بھلا کچھ نکالا کرو

    ذرا آپ کو تم سنبھالا کرو

    یہ سن، چپ رہی، دل میں کھا پیچ و تاب

    دیا کچھ نہ اس بات کا پھر جواب

    گئے اس پہ جب دن کئی اور بھی

    بگڑنے لگے پھر تو کچھ طور بھی

    دوانی سی ہر طرف پھرنے لگی

    درختوں میں جا جا کے گرنے لگی

    ٹھہرنے لگا جان میں اضطراب

    لگی دیکھنے وحشت آلودہ خواب

    تپ ہجر گھر دل میں کرنے لگی

    در اشک سے چشم بھرنے لگی

    خفا زندگانی سے ہونے لگی

    بہانے سے جا جا کے سونے لگی

    تپ غم شدت سے