Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دعوتوں میں شاعری

دلاور فگار

دعوتوں میں شاعری

دلاور فگار

دعوتوں میں شاعری اب ہو گئی ہے رسم عام

یوں بھی شاعر سے لیا جاتا ہے اکثر انتقام

پہلے کھانا اس کو کھلواتے ہیں بھوکے کی طرح

پھر اسے کرتے ہیں استعمال میٹھے کی طرح

سنیے اک صاحب کا قصہ جو بڑے فن کار ہیں

ہاں مگر تھوڑے سے دعوت خور و دنیا دار ہیں

ایک دعوت میں انہیں گانا بھی تھا کھانے کے بعد

''وہ ترے آنے سے پہلے یہ ترے جانے کے بعد''

شاعر موصوف تھے اس فیلڈ میں بالکل نئے

اس لیے وہ کچھ ضرورت سے زیادہ کھا گئے

قورمہ اسٹو، پسندہ، کوفتہ، شامی کباب

جانے کیا کیا کھا گیا یہ شاعر معدہ خراب

کچھ نہ پوچھو اس عمل سے ان کو کیا حاصل ہوا

ان کے ماضی سے جدا خود ان کا مستقبل ہوا

شعر پڑھنے کے لیے موصوف جب مسند پر آئے

زور تو پورا لگا ڈالا مگر کچھ پڑھ نہ پائے

چاہتے یہ تھے میں کچھ حال دل روداد غم

منہ سے صرف اتنا ہی نکلا مما مما مما مم

دیکھ کر ان کی یہ حالت اک ادیب زندہ دل

ان سے یہ کہنے لگا اے بے وقوف مستقل

آ کے بزم شعر میں شرط وفا پوری تو کر

جتنا کھانا کھا گیا ہے اتنی مزدوری تو کر

بعد شعر و شاعری کھانے کا رکھیے انتظام

یہ غلط دستور ہے پہلے طعام اور پھر کلام

یہ نہ ہوگا تو ادب زیر زمیں گڑ جائے گا

خوش گلو شاعر تو کھانا کھا کے ٹھس پڑ جائے گا

مأخذ :
  • کتاب : Kulliyat Dilawar Figar (Pg. 125)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے