آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی
آج ہمیں بیتابی سی ہے صبر کی دل سے رخصت تھی
چاروں اور نگہ کرنے میں عالم عالم حسرت تھی
کس محنت سے محبت کی تھی کس خواری سے یاری کی
رنج ہی ساری عمر اٹھایا کلفت تھی یا الفت تھی
بدنامی کیا عشق کی کہیے رسوائی سی رسوائی ہے
صحرا صحرا وحشت بھی تھی دنیا دنیا تہمت تھی
راہ کی کوئی سنتا نہ تھا یاں رستے میں مانند جرس
شور سا کرتے جاتے تھے ہم بات کی کس کو طاقت تھی
عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا
اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی
خالی ہاتھ سیہ رو ایسے کاہے کو تھے گریہ کناں
جن روزوں درویش ہوئے تھے پاس ہمارے دولت تھی
جو اٹھتا ہے یاں سے بگولا ہم سا ہے آوارہ کوئی
اس وادی میں میرؔ مگر سرگشتہ کسو کی تربت تھی
- کتاب : MIRIYAAT - Diwan No- 4, Ghazal No- 1533
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.