میں رات کے شروع ہوتے ہی
ساکن کھڑے چاند کی جانب
اپنے اداس خواب بھیجتا ہوں
وہاں تیز روشنی میں
یہ مزید اداس ہو جاتے ہیں
ڈوبتے آدمی کی طرح
جس کی ساری خواہشیں
اسی سفر سے وابستہ ہیں
میں ساکن چاند کی جانب
خوابوں کو پیغام بھیجتا ہوں
کہ امید کی رسی مت چھوڑنا
اور کچھ سرخ پھول بھی
کہ اداسی کا جادو چل نہ پائے
رات بے لگام گھوڑے کی طرح بھاگتی ہے
اور میں گلاب کے کھیتوں کی طرف
خدشوں کا سمندر ابلتا ہے
کہ کہیں اداسی کا جادو چل نہ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.