آخری بس
آخری بس بھی لو اب گزر ہی گئی
رات اندھیری
ہوا تیز
بارش بھی تھمتی نہیں
اور منزل تمہاری بہت دور ہے
ایسے میں اب کہاں جاؤ گی
آؤ
یادوں کی دہلیز پر بیٹھ کر
بادۂ عہد رفتہ کے ساغر میں ہم
تلخیاں حال کی گھول دیں
آج کو بھول کر
کل کو آواز دیں
آئنہ تو سلامت نہیں ہوگا اب
تم نے سرگوشیوں میں دیا یوں جواب
آئنہ میرے تم ہو سلامت رہو
آج یہ آئنہ بھی شکستہ ہے خود دیکھ لو
زندگی پا برہنہ ہے خود دیکھ لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.