Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آخری نظم

جاوید شاہین

آخری نظم

جاوید شاہین

بیوی مجھ سے کہتی ہے

سارا دن لیٹے رہنے

اور نظمیں لکھنے سے

گھر کیسے چلے گا

نظمیں روٹیاں تو نہیں

کہ بچوں کا پیٹ بھر سکیں

تم تو اپنا پیٹ

شاعری کی تلوار سے کاٹ کر

مستقبل کی کھونٹی سے لٹکا چکے ہو

لیکن ہمارے پیٹ اتنے شاعرانہ نہیں

سوچتا ہوں

بیوی ٹھیک کہتی ہے

نظمیں تو غیب سے اتر آتی ہیں

لیکن روٹیاں غیب کے تنور میں نہیں پکتیں

ویسے بھی شاعری کو زندہ رکھنے کے لیے

پیٹ پر روٹی باندھنی ضروری ہے

لیکن میں اسے درخواست کروں گا

وہ مجھے ایک نظم اور لکھ لینے دے

آخری نظم

جس میں آنے والی کل کے لیے

کوئی تعریف نہیں ہوگی

جس میں گزر جانے والی کل کے لیے

کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا

جس میں آج کے کسی دکھ کا

ماتم نہیں ہوگا

ہر لحاظ سے مکمل نظم

مأخذ :
  • کتاب : Ishq e Tamam (Pg. 129)
  • Author : Javed Shaheen
  • مطبع : Sang e Meel Publications, Lahore (1993)
  • اشاعت : 1993

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے