Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنے والے مصنفین کے نام

بشر نواز

آنے والے مصنفین کے نام

بشر نواز

ایک رقعہ لکھیں

اور یوں لکھیں

ہم تو اپنے دور کی بے رنگیوں بد عہدیوں اور نفرتوں کی

مردہ تفصیلات کی زندہ کہانی اپنے خوں سے لکھ گئے

ہم کیا کریں گر اپنا خوں

کالے بدبو دار قاتل زہر ہی کی لہر تھا

اور یہ لکھیں ہمارے دور میں

سات رنگوں کی دھنک

کالے کمبل اوڑھتی تھی

اجلے اجلے چاولوں میں سنگ ریزوں کی بڑی بہتات تھی

اور ہمارے پیرہن آگ سے کترے گئے تھے

اور جو تھا کھال کے اندر پگھل کر بہہ گیا تھا

اور لکھیں یہ بھی کہ ہم تو اپنا حصہ پا چکے

اب تمہارے واسطے

سات رنگوں کی برہنہ قوس ہے

اس کو اپنے طور پر جب کبھی ترتیب دینا خون کے اک رنگ کو

چھوڑ دینا ان کے نام

جن کی رگ رگ کالے بدبو دار قاتل زہر سے بیزار تھی

پھر بھی اسے ڈھونے پہ جو مجبور تھے

جن کو اپنے جسم میں جیسے لہو کی سرخ دھار

دیکھنے کا عمر بھر ارماں رہا اور جو اپنے دور کی بے رنگیوں

کی مردہ تفصیلات کی زندہ گواہی دیتے دیتے سو گئے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے