آواز
تو پھر اس رات کی پر ہول سیاہی میں ابھی
برق سی کوندتی
تسکین کو شق کرتی ہوئی
میرے احساس
مری روح کو برماتی ہوئی
جانی پہچانی سی آواز کہاں سے آئی
کس نے یہ خواب شکن بانگ بہ شکل مژدہ
اس طرح کی ہے بلند اس شب تنہائی میں
جیسے اس رات کی سطوت ہے تنزل پیرا
اور خوابوں کی سحر
تخت افق پر جیسے
ابھی آئی کہ بس آئی
رخ زیبا لے کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.