اگر تمہیں کاری کہہ کر قتل کر دیں
مر جانا پیار ضرور کرنا
شرافت کے شو کیس میں
نقاب ڈال کر مت بیٹھنا پیار ضرور کرنا
پیاسی خواہشوں کے ریگزار میں
ببول بن کر مت رہنا پیار ضرور کرنا
اگر کسی کی یاد ہولے ہولے
تمہارے دل میں آتی ہے
تو مسکرا دینا پیار ضرور کرنا
وہ کیا کریں گے بس سنگسار ہی تو کریں گے تم کو
تم اپنے جیون پل کا لطف اٹھانا پیار ضرور کرنا
تمہارے پیار کو گناہ بھی کہا جائے گا
تو کیا ہوا سہا جانا
پیار ضرور کرنا
پیار کی سرحدیں
پیار تو مجھ سے بے شک کرتے ہو
روٹی کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کیا ہے
اس کے بدلے میرا جیون گروی رکھ لیا ہے
گھر کی بہشت میں مجھے بالکل آزاد چھوڑ رکھا ہے
بس اسی طرف جانے کی ممانعت ہے
جہاں شعور کے درخت میں
سوچ کا پھل لگتا ہے
روز ابھرتا سورج مجھے
قدم بڑھانے پر اکساتا ہے
آج یہ پھل کھایا ہے تو آپے سے باہر ہو گئی ہوں
سوچ نے کھول ڈالیں ساری کھڑکیاں ذہن کی
تمہاری بہشت میں میرا دم گھٹنے لگا ہے
میں فیصلے کرنے کی آزادی چاہتی ہوں
سوچ کے میوے نے اتنی طاقت دے دی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.