Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی مٹی کی خوشبو

عرش صدیقی

اپنی مٹی کی خوشبو

عرش صدیقی

میں جب بستی کی سرحد پر کھڑا ہو کر

افق میں ڈوبتی راہوں کو تکتا تھا

تو وہ رو رو کے کہتی تھی

مجھے ڈر ہے

تجھے یہ نا ترس راہیں نہ کر ڈالیں جدا مجھ سے

میں اپنی نیم ترساں انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھ کر کہتا تھا

اب کیسا جدا ہونا

مگر میں دل میں ڈرتا تھا

کہ ان راہوں سے واقف تھا

انہی راہوں پہ چل کر اس دیار غیر میں آیا تھا اور یہ سوچ بیٹھا تھا

کہ یہ میرے سفر کی آخری منزل ہے یہ انعام ہے میرا

مگر ہر دم افق میں ڈوبتی راہیں

سنہرے بادلوں کی روشنائی سے

ہوا میں کچھ پرانی بستیوں کے نام لکھتی تھیں

اسے اک روز میں نے کہہ دیا مجھ کو مرے اجداد کا مدفن بلاتا ہے

مری جاں مجھ کو جانا ہے

مگر تجھ بن نہ جاؤں گا

وہ اک بت کی طرح سر کو جھکائے چپ رہی لیکن

خموشی کو زباں کہتے تو سب کچھ کہہ گئی مجھ سے

جو آنسو اس کی پلکوں سے گرے تھے خشک مٹی پر

انہیں میں نے تڑپتے سوچتے اور بولتے دیکھا

پھر اک شب اس کے پہلو سے میں اٹھا اور افق میں

ڈوبتی راہوں پہ چلتا اپنے آبا

کی اس مٹی کی خوشبو کے تعاقب

میں چلا آیا جو میرے خوابوں میں

پلتی تھی

مجھے پہلو سے گم پا کر وہ سادہ بے زباں لڑکی مگر کیا سوچتی ہوگی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے