اک بچہ چھوٹا سا بچہ

حمزہ دائم

اک بچہ چھوٹا سا بچہ

حمزہ دائم

MORE BYحمزہ دائم

    اک بچہ چھوٹا سا بچہ

    ایک ہاتھ میں اس کے تختی تھی

    ایک ہاتھ میں اس کے بستہ تھا

    اور پاؤں کے نیچے دور تلک

    اسکول کو جاتا رستہ تھا

    وہ افسر بننا چاہتا تھا

    وہ سچ مچ پڑھنا چاہتا تھا

    کچھ خواب تھے اس کی آنکھوں میں

    جو رفتہ رفتہ ٹوٹ گئے

    غربت نے اسے مجبور کیا

    یوں پڑھنے سے وہ دور ہوا

    پھر پاؤں سے رستے روٹھ گئے

    اور ہاتھ سے بستے چھوٹ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY