فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین
ہنستی، لچکتی، دھڑکتی، لکیریں
کٹیلے بدن تیغ کی دھار جیسے!
لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!
نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ باہیں
مدور اٹھانیں، منور ڈھلانیں،
ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے
ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!
خطوط برہنہ کے ان آئینوں میں
حسیں پیکروں کے شفاف خاکے
کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیں
وہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!
انہیں پھونک دے گی بے مہر دنیا
فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین
کو اک بار حسرت سے تک لو
پھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!
- کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 123)
- Author : Zahid Hasan
- مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
- اشاعت : 2002
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.