تیسری بارش سے پہلے

ثمینہ راجہ

تیسری بارش سے پہلے

ثمینہ راجہ

MORE BYثمینہ راجہ

    اس روز موسم خزاں کی پہلی بارش ہوئی

    جب اس نے میرے در سے آخری بار قدم نکالا

    اس نے میری رسوئی سے ایک نوالہ نہ لیا

    میرے کنویں سے ایک گھونٹ نہ پیا

    اور میرے ہونٹوں کا ایک بوسہ نہ لیا

    بلکہ پہلے لئے ہوئے سارے بوسے

    تھوک دیئے

    جب موسم خزاں کی دوسری بارش ہوئی

    تو میری رسوئی میں ایک سانپ نکلا

    میرے کنویں میں ایک مینڈک پیدا ہوا

    اور میرے ہونٹوں پر پہلی پپڑی جمی

    تب سے اب تک سانپ

    رسوئی میں گھات لگائے ہے

    مینڈک کنویں میں دبکا ہے

    اور جانے والا

    روزانہ میرے در پر دستک دیتا ہے

    اپنے تھوکے ہوئے بوسے

    چاٹنے کے لئے

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 37)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY