چند بوڑھی نظمیں
۱
پوتی سے دادی بننے کے لمبے سفر میں
ایسا کوئی پڑاؤ نہیں آیا تھا جس پر
رک کے تازہ دم ہونے کی
سوکھی سوندھی پیال پہ پڑ کے
میٹھے میٹھے سپنوں میں سو جانے کی مہلت ملتی
اب منزل پر آ کے تھک کے چور پڑی وہ
میٹھے سپنوں میں سو جانے کی کوشش
کرتے کرتے کیا بے حال ہوئی جاتی ہے
کھانس کھانس کے ساری رات گزر جاتی ہے
۲
بھرے پرے محلوں جیسے اس گھر کا
اک اک کمرہ
اپنے اپنے نام سے اب ریزرو کرا رکھا ہے سبھوں نے
وہ جو برساتی میں بیتی یادیں اوڑھ کے لیٹا
اپنے دن گنتا ہے
نیم پلیٹ پہ گھر کے اسی بوڑھے کا نام
لکھا ہوا ہے بڑے بڑے حرفوں میں
۳
رستہ بالکل صاف ہے
پختہ سیدھی سڑک ہے
نیلے والے باغ کے پھولوں سے ملنے روزانہ
جایا جا سکتا ہے لیکن کیسے
سوچ کے ہی پیروں میں اینٹھن ہونے لگتی ہے
اور دم بے دم ہونے لگتا ہے
۴
بیتابی سے ڈھونڈ رہا ہے کیسے پائے گا اب
وہ سب کچھ جو چھوڑ گیا تھا
نئے نئے سامانوں سے گھر چھت تک اٹا پڑا ہے
پہلے جو رکھا تھا یہاں وہ ان میں دب کر
ٹوٹ کے چکنا چور ہوا یا کوئی کباڑی
سستے داموں لے کے گیا یہ کون بتائے
تال پہ اس کے لائے ہوئے اسٹریو میوزک سسٹم کے
سب تھرک رہے ہیں
ایسے شور شرابے میں اب اس کی کون سنے گا
پہلے گھر والوں سے آئی ایس ڈی پر
منٹوں کا ہی رابطہ اک قائم تو ہو جاتا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.