Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک لڑکی

خالد رحیم

ایک لڑکی

خالد رحیم

وہ بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس

میلی کچیلی وہ دبلی سی لڑکی

وہ معصوم اور بھولی سی لڑکی

جو ہر روز آتی تھی میری دکاں پر

جھجھکتے ہوئے

اپنے میلے سے ہاتھوں کو آگے بڑھا کر

یہ کہتی تھی مجھ سے بڑے بھولے پن سے

کہ بابو بڑی بھوک لگتی ہے

بس آٹھ آنے ہی دے دو

مگر آج پھر چھ برس بعد

جب میں نے دیکھا

تو اتنا بڑا فرق پایا ہے اس میں

کہ وہ صاف ستھرے لباسوں میں کس شان سے گھومتی ہے

جوانی کی پوشاک میں

اس کا گورا بدن آتے جاتے ہوئے

راہگیروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے

وہ حسن و جوانی سے نکھری ہوئی ہے

اسے وقت نے ایک تحفہ دیا ہے

سنا ہے کہ اب پیٹ بھرنے کی خاطر

وہ ہاتھوں کو پھیلائے پھرتی نہیں ہے

وہ اب شہر کے نوجوانوں کے ہاتھوں

رئیسوں کے ہاتھوں شریفوں کے ہاتھوں

جوانی کا مہکا چمن بیچتی ہے

وہ اپنا کٹیلا سجیلا رسیلا بدن بیچتی ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے