بظاہر اجنبی ہو تم
مگر بوسوں کی بے کیفی بتاتی ہے
کہ یہ وہ زہر ہے چکھا ہے جس کو بارہا میں نے
نہ جانے جذب ہے میرے لبوں میں کتنے رخساروں کی کڑواہٹ
یہ سب خمیازہ ہے
اس بوسۂ اول کا دل بھولا نہیں جس کی حلاوت کو
میں اس کو بارہا سمجھا چکا ہوں
ماضیٔ مرحوم کا ماتم تو کر سکتے ہیں، واپس لا نہیں سکتے
مگر دل، دل ہے اس کو کون سمجھائے
یقیں ہے آج تک اس لمحۂ اول کی اس کو بازیابی کا
اسیر وہم ہے اتنا
گماں ہونے لگا ہے ریگ صحرا پر بھی پانی کا
اسے دیوانگی کہہ لو
فراز تشنگی سمجھو
- کتاب : Kulliyat Gopal Mittal (Pg. 123)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.