ایک نقطہ
میرا جی چاہتا ہے
نظم لکھوں
اس کے لیے
اس کی زلفوں کے لیے
اس کی آنکھوں کے لیے
اس کے انداز تکلم کے لیے
جو مری روح کی تسکین کا سامان بنا
اس کے ہر زوایہ جسم کی خاطر
جو مرے جسم کی تزئین کی پہچان بنا
میں مگر سوچتا ہوں
جو سراپا ہے غزل
اس کے لیے کیا لکھوں
جو سمندر ہے اسے کس طرح دریا لکھوں
اور دریا کو جو لکھوں بھی تو قطرہ لکھوں
اور قطرے کو سمیٹوں بھی تو نقطہ لکھوں
میں عجب سوچ میں ہوں اس کے لیے کیا لکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.