Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فریاد بیوہ

ماسٹر باسط بسوانی

فریاد بیوہ

ماسٹر باسط بسوانی

بیوہ ہیں نالۂ غم ہے با اثر ہمارا

تڑپائے گا دلوں کو درد جگر ہمارا

سرتاج اٹھ گیا ہے آخر کدھر ہمارا

ویراں ہو گیا ہے آباد گھر ہمارا

عبرت کی جا ہے پھرنا یوں در بدر ہمارا

کوئی نہیں ہے ایسا دکھیا کی جو دعا لے

بیکس یتیم بچے کو کیوں کوئی سنبھالے

کس کو غرض ہے ایسی جو گود میں اٹھا لے

ہے کون تم میں ایسا چھاتی سے جو لگا لے

منہ تک رہا ہے سب کا لخت جگر ہمارا

دل سے دعا ہے داتا دے اس سے بھی زیادہ

خیرات جان و تن کی بچوں کا اپنے صدقہ

ہم کو بھی ہو عنایت روٹی کا ایک ٹکڑا

تن ڈھانکنے کی خاطر کپڑا کوئی پرانا

دیکھو بلک رہا ہے نور نظر ہمارا

ہم بھیک مانگنے کو آئے تمہارے آگے

عبرت کے ہیں کرشمے عبرت کے ہیں تماشے

قربان جان و دل سے واری تمہارے صدقے

اے بھائیو ہیں آخر ہم بھی خدا کے بندے

مل جائے کچھ ہمیں بھی حق ہو اگر ہمارا

باسطؔ ہمیں یقیں ہے ہو بے قرار تم بھی

ہم غم زدوں کے دل سے ہو غم گسار تم بھی

خستہ جگر ہو تم بھی ہو دل فگار تم بھی

حالت ہے وہ ہماری ہو اشک بار تم بھی

سن لو کبھی جو نالہ پچھلے پہر ہمارا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے