اک بوڑھا

ضیا ضمیر

اک بوڑھا

ضیا ضمیر

MORE BY ضیا ضمیر

    اک بوڑھا بستر مرگ پہ ہے

    بیمار بدن لاچار بدن

    سانسیں بھی کچھ بوجھل سی ہیں

    اور آنکھیں بھی جل تھل سی ہیں

    ایسا بھی نہیں تنہا ہے وہ

    پانی ہے مگر پیاسا ہے وہ

    گھر میں بہوویں بیٹے بھی ہیں

    ہیں پوتیاں بھی پوتے بھی ہیں

    لیکن کوئی پاس نہیں آتا

    سب جھانکتے ہیں چلے جاتے ہیں

    جیسے یہ اس کا گھر ہی نہیں

    جیسے وہ سب بیگانے ہیں

    جس بہو کا نمبر ہوتا ہے

    کھانے کے نوالے ٹھونس کے وہ

    فرض اپنا مکمل کرتی ہے

    پھر وقت پہ کوئی اک بیٹا

    وہ جس کو تھوڑی فرصت ہو

    پہلے تو آ کر ڈانٹتا ہے

    دیتا ہے دوائی پھر ایسے

    جیسے احسان کرے کوئی

    جیسے اپمان کرے کوئی

    ہر دن یہ بوڑھا سوچتا ہے

    کوئی بات نئی ہو آج کے دن

    کوئی دو میٹھے الفاظ کہے

    کبھی محفل اس کے پاس سجے

    کبھی ہنسنے کی کوئی بات چلے

    مگر ایسا پچھلے برسوں میں

    کبھی ہو پایا نہیں ہو پایا

    اپنے اس بیگانے پن پر

    اپنے اس ویرانے پن پر

    یہ بوڑھا انکشاف رہتا ہے

    یہ بوڑھا روتا رہتا ہے

    اک بوڑھا بستر مرگ پہ ہے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY