Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہونٹ کھلتے نہیں

حرمت الااکرام

ہونٹ کھلتے نہیں

حرمت الااکرام

ان کو مجھ سے گلہ مجھ کو ان سے گلہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

خامشی بن گئی حاصل مدعا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

کشمکش میں ہیں مغرور رعنائیاں بے اماں پھرتی ہیں کتنی پرچھائیاں

بیتے لمحوں کا آئینہ دھندلا گیا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

کوئی افسانہ کہتی نہیں زندگی دھڑکنیں دل کی ہیں اجنبی اجنبی

بربط آرزو ہو گیا بے صدا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

سرد ہے آتشیں ولولوں کی جبیں دل دھڑکتے ہیں اور آنکھ اٹھتی نہیں

کون بتلائے کس سے ہوئی ہے خطا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

ہوش کس کو کہ دہرائے روداد غم روٹھی روٹھی سی ہے لذت کیف و کم

کھویا کھویا سا ہے اعتماد وفا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

تلخیٔ شوق کے داغ دھلتے نہیں جی مچلتا ہے اور ہونٹ کھلتے نہیں

کتنی بے بس ہے احساس کی ہر ادا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

کیسے یہ پیچ و خم آ پڑے ناگہاں ہم سفر ہم سفر سے ہوا بد گماں

گم اندھیروں میں ہونے لگا راستہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

وجہ آزردگی تا بلب آئے کیا ایک پندار ہے کتنا صبر آزما

پیار کو مل گیا اک نیا مشغلہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

حرمت اک درد کی خم بہ خم رہ گزر کر رہی ہے اشارے کہ آؤ ادھر

کون منزل کا کس کو بتائے پتہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے