Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہنا یہ تھا

صائمہ اسما

کہنا یہ تھا

صائمہ اسما

جانے کہاں ہو

دفتر کے مردہ ماحول میں

دوغلے لوگوں کے جھرمٹ میں

شہر کی باہوں کے ظالم حلقے سے باہر

چوڑی شہ راہوں کے تپتے سینے پر چپ چاپ رواں ہو

یا کسی تہہ خانے کی ٹھنڈک کے مہماں ہو

موبائل کا صاف جواب ہے

آپ کے مطلوبہ نمبر سے کوئی جواب نہیں ملتا ہے

کہنا یہ تھا

یہ کمپیوٹر آج مری خواری پر پھر آمادہ ہے

نیٹ کا رابطہ جڑ نہیں پاتا

جڑ جائے تو پل سے زیادہ رکنے کو تیار نہیں ہے

کون سا آئیکون دباؤں تو یہ سرکش گھوڑا قابو میں آئے گا

کس نمبر پر فون کروں تو کوئی مدد کی صورت ہوگی

موڈم باغی ہو بیٹھا ہے

سرور بات نہیں سنتا

ویب کی رگوں میں خون جما ہے

کونے پر اک گھومتی دنیا کے محور پر زنگ لگا ہے

جانے کہاں ہو

کسی شجر کی باہم پیوستہ شاخوں سے راہ بنا کر

بجلی کے کھمبوں تاروں

یا دیواروں کے کان سے ہو کر

شاید کوئی بھولا بھٹکا سگنل تم کو ڈھونڈ نکالے

اور بتلا دے

پاس نہ ہو تم تو میں سارے عالم سے کٹ جاتی ہوں

دنیا میری مٹھی میں سے ریت کی صورت بہہ جاتی ہے

دنیا بھر سے میرے رابطے بس تم سے ہیں

رابطہ رکھنا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے