Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خرگوش کی سرگزشت

ساقی فاروقی

خرگوش کی سرگزشت

ساقی فاروقی

رقص

شام کھڑی ہے

بھوری جھاڑیوں،

پیلی گھاسوں کے خیموں سے باہر نکلو

نرم ہوائیں بالوں کی جھالر سے گزرتی

لمبے لمبے کانوں میں خرگوشی کرتی ہیں

سرخ کونپلیں

سبز پتیاں

سانپ چھتریاں۔۔۔

جنگل میں گودام کھلا ہے پاگل

اپنے بیکل نتھنوں میں

اس خوش بو کا چھلا ڈال کے رقص کرو

ہر خطرے کو چکمہ دو

چور چٹانوں کے نیچے

سو دروازے ہیں

کیسر پھولوں کے بستر ہیں

دھوم مچانے کو سارا میدان پڑا ہے

موت

اور تم اپنے شبستاں چھوڑ کر

اس بیاباں کے اندھیرے راستے پر

خون میں لت پت پڑے ہو

اس کی آخر کیا ضرورت تھی

وہاں پر تم جہاں کے حکمراں تھے

کیا نہیں تھا؟

خواب کی دیوار کیوں کر پار کرنا چاہتے تھے

اس تجسس میں کشش کیسی ہے

نامعلوم کو تسخیر کی تمنا کس لیے ہے

اس پرانی آرزو مندی میں کیا ہے

اس خیاباں کے عقب میں

وہ جو پر اسرار دنیائیں بسی ہیں

وہ ہمیں کیوں کھینچتی ہیں؟

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

خرگوش کی سرگزشت نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے