خوف
یہ دنیا قید خانہ ہے
ہم اس کے تا دم آخر مقید ہیں
یہ جتنی گڑبڑیں الجھن ہیں ان کا حل تلاشوں میں
یا بہتر ہے
سبھی الجھن سبھی سوچوں سبھی گرہوں کو جیسی ہیں انہیں ویسے ہی رہنے دوں
سزا کاٹوں
رہا ہو لوں
عجب گرہیں پڑی ہیں ذات کہ ہر ایک گوشے میں
مری سوچیں ہزاروں الجھنوں میں قید ہیں شاید
دعا دو تم
انہیں سلجھا سکوں میں بھی
مگر اک خوف ہے مجھ کو
بتاؤ تم الجھتی بے پنہ گرہوں کو سلجھاتے ہوئے خود سے الجھ جاؤں
تو تم پاگل بلاؤ گے مجھے بولو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.