خوشبو کی موت
دلچسپ معلومات
(پروینؔ شاکر کی مرگ ناگہانی پر)
مرے خدائے بزرگ و برتر
یہ سچ ہے ذات و صفات تو ہے
قدیر موت و حیات تو ہے
کہ خالق کائنات تو ہے
تجھی نے ذروں کو رفعتیں دیں
تجھی نے پھولوں کو نکہتیں دیں
شجر حجر سب کو عظمتیں دیں
تجھی نے دی تھی
ہمارے گلشن کو وہ کلی بھی
کہ جس کی خوشبو مشام جاں میں اتر گئی تھی
وہ موج پیچاں جو ساحلوں سے گزر گئی تھی
حروف کے شہر بےنوا میں
وہ نرم رو صورت صبا تھی
خیال کے دشت بے فضا میں
وہ اک برستی ہوئی گھٹا تھی
اک آب جو تھی
سمندروں سے جو بے کراں تھی
وہ شاخ گل تھی
جو آپ ہی اپنا گلستاں تھی
وہ صبح افکار کی تجلی
جو خود کلامی کا آئنہ تھی
وہ اک شب سعد کی گھڑی جو
شفیق ماں کی کوئی دعا تھی
وہ ایک ننھی شگفتہ پتی
یہ سچ ہے صدبرگ سے سوا تھی
وہ ایک ماہ تمام گویا
ہزار انجم کی اک ضیا تھی
مرے خدائے بزرگ و برتر
تجھے قسم ہے
ہمیں دوبارہ
وہ خوشبوؤں سے بھری ہنسی دے
وہ چاند آنکھوں کی روشنی دے
گلاب لفظوں کی تازگی دے
بہار موسم کی پھر وہی گم شدہ کلی دے
کہ
اس کے جانے سے
شہر حرف و نوا کی گلیاں
بہت ہی سنسان ہو گئی ہیں
غضب کی ویران ہو گئی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.