کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے
کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کے
کچھ ٹوٹے ہوئے بال
آج بھی ممکن ہے مل جائیں
بڑے صندوق میں رکھے
مرے بد رنگ سے اک سویٹر پر
اسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے
کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے
وہی دہلیز ہے
لیکن مرے داڑھی نہیں ہے
مرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے
تھپک کر پیٹھ میری
بزرگوں کی طرح مجھ کو تسلی دے رہا ہے
اور میں اک بچے کی صورت رو رہا ہوں
ہچکیوں سے
- کتاب : دکھ نئے کپڑے بدل کر (Pg. 110)
- Author :شارق کیفی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2019)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.