Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

ساحر لدھیانوی

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

ساحر لدھیانوی

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں

روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں

وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں

روح مر جاتی ہے تو جسم ہے چلتی ہوئی لاش

اس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں

کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے

کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج

لوگ عورت کی ہر اک چیخ کو نغمہ سمجھے

وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج

جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریں

یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

اک بجھی روح لٹے جسم کے ڈھانچے میں لیے

سوچتی ہوں میں کہاں جا کے مقدر پھوڑوں

میں نہ زندہ ہوں کہ مرنے کا سہارا ڈھونڈوں

اور نہ مردہ ہوں کہ جینے کے غموں سے چھوٹوں

کون بتلائے گا مجھ کو کسے جا کر پوچھوں

زندگی قہر کے سانچوں میں ڈھلے گی کب تک

کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانے کا ضمیر

ظلم اور جبر کی یہ ریت چلے گی کب تک

مأخذ :
  • کتاب : Kulliyat-e-Sahir Ludhianvi (Pg. 447)
  • Author : SAHIR LUDHIANVI
  • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

related content

نظم

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

ساحر لدھیانوی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے