Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ماں کا حق

سوچتا ہوں اپنی ماں کا حق ادا کیسے کروں

میری عزت میری عظمت کا سبب ہے میری ماں

میری نعمت میری دولت ہے وہی اک مہرباں

باعث رحمت ہے وہ میرے لیے جنت نشاں

کیوں نہ پھر جی جان سے اس ذات کی خدمت کروں

میری پیدائش پہ تکلیفیں اٹھائیں بے شمار

میں ہوا بھوکا تو دودھ اپنا پلایا بار بار

مجھ کو سینے سے لگا کر ہی اسے ملتا قرار

وہ سراپا مامتا ہے اور اس کو کیا کہوں

دن کو دن اس نے نہ سمجھا اور نہ سمجھا شب کو شب

میری بیماری میں اس کا حال ہو جاتا عجب

وہ دعا کر کے دوا کر کے بھی ڈرتی بے سبب

چھین لیتی میری بیماری غرض صبر و سکوں

میں شرارت بھی اگر کرتا تو وہ کرتی تھی پیار

میں ستاتا بھی تو وہ کرتی تھی جاں مجھ پر نثار

الغرض تھی میرے دم سے زیست اس کی پر بہار

اس کی الفت اس کی شفقت کا بیاں میں کیا کروں

سایۂ شفقت میں اس کے ہو گیا اب میں بڑا

اب سمجھ سکتا ہوں اپنے حق میں اچھا اور برا

جانتا ہوں خوب میں فرماں رسول اللہ کا

میں سوائے کفر کے ہر حکم اس کا مان لوں

اے خدائے دو جہاں اے مالک روز جزا

حق ادا کرتا رہوں ماں باپ کا احباب کا

دوسروں کو بھی مری جیسی سعادت کر عطا

میں کہ ساحلؔ گرچہ تیرا بندۂ ناچیز ہوں

سوچتا ہوں اپنی ماں کا حق ادا کیسے کروں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے